Malika Afaq Zamani Begam

ملکہ آفاق زمانی بیگم

  • - 1983

ملکہ آفاق زمانی بیگم کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    زیست میں منظر فنا اس نے دکھا دیا کہ یوں

    زیست میں منظر فنا اس نے دکھا دیا کہ یوں لکھ کے ہمارے نام کو خود ہی مٹا دیا کہ یوں میں نے کہا کہ طور پر غش ہوئے کس طرح کلیم سن کے حریم ناز کا پردہ اٹھا دیا کہ یوں شور مچا ہے کس لئے فتنہ ہوئے ہیں کیوں بپا ان کے خرام ناز نے مجھ کو بتا دیا کہ یوں میں نے کہا کہ ابر میں آتا ہے چاند کس ...

    مزید پڑھیے

    ہوئے ہیں دوست جب اے یار ہم تم

    ہوئے ہیں دوست جب اے یار ہم تم کریں کیوں باہمی تکرار ہم تم میں تم پر اور تم دشمن پہ مائل ہوئے ہیں ساتھ ہی بیمار ہم تم ہیں محروم وصال یار دونوں نہ ہوں مجبور اور لاچار ہم تم لکھیں الفت کی دستاویز باہم عدالت میں کریں اقرار ہم تم اسی اک بت کے ہیں دونوں پجاری چلو اب پہن لیں زنار ہم ...

    مزید پڑھیے

    پھرتی ہے یوں دعا مری شمع اثر کے آس پاس

    پھرتی ہے یوں دعا مری شمع اثر کے آس پاس جیسے چکور ہو کوئی شب کو قمر کے آس پاس ترچھی نظر کے کھائے ہیں سینہ پہ تیر اس قدر نام کو بھی جگہ نہیں قلب و جگر کے آس پاس تیری نگاہ اٹھتے ہی صاف تھے دم میں کل پرے رہتی ہے کیا قضا لگی تیغ نظر کے آس پاس اس کے حریم ناز میں بار ملے تو کیا ملے تیر نظر ...

    مزید پڑھیے

    یہ سن کے مقتل کو جا رہے ہیں کہ آج قصہ تمام ہوگا

    یہ سن کے مقتل کو جا رہے ہیں کہ آج قصہ تمام ہوگا یہی تو ہوگا نہ جان لیں گے ہمارا اس میں بھی کام ہوگا نہ دل کو یارا نہ تاب و طاقت بیان کیا ہو زباں سے حالت کبھی تو عاشق پہ ہو عنایت فراق میں یہ تمام ہوگا تمہاری زلفوں کی ہم کو الفت بڑھائے گی دل میں اتنی وحشت یہ کیا خبر تھی کہ بن کے مجنوں ...

    مزید پڑھیے

    کس قدر تیز ہے شباب کی دھوپ

    کس قدر تیز ہے شباب کی دھوپ جیسے بھادوں میں آفتاب کی دھوپ یہ نہ کہئے کہ موئے سر ہیں سفید ہے زمانے کے انقلاب کی دھوپ یوں جوانی گزر گئی افسوس جیسے ڈھلتی ہے آفتاب کی دھوپ قمر حسن واہ کیا کہنا چاندنی ہے کہ ماہتاب کی دھوپ کہئے غصہ نہ آئے گا آفاقؔ گھیرے کوئی اگر جناب کی دھوپ

    مزید پڑھیے

تمام