ہوئے ہیں دوست جب اے یار ہم تم

ہوئے ہیں دوست جب اے یار ہم تم
کریں کیوں باہمی تکرار ہم تم


میں تم پر اور تم دشمن پہ مائل
ہوئے ہیں ساتھ ہی بیمار ہم تم


ہیں محروم وصال یار دونوں
نہ ہوں مجبور اور لاچار ہم تم


لکھیں الفت کی دستاویز باہم
عدالت میں کریں اقرار ہم تم


اسی اک بت کے ہیں دونوں پجاری
چلو اب پہن لیں زنار ہم تم


کہاں جاتے ہو آدھی رات آئی
چلو اب سو رہیں اے یار ہم تم


یہی کہہ کر لیا تھا دل نہ تم نے
قیامت تک رکھیں گے پیار ہم تم


مزہ جب ہے کہ ہوں الفت کی باتیں
کریں پھر عشق کا اظہار ہم تم


یہ کہہ کر سو گئے وہ ہم سے آفاقؔ
چلیں گے صبح کو گلزار ہم تم