یہ سن کے مقتل کو جا رہے ہیں کہ آج قصہ تمام ہوگا

یہ سن کے مقتل کو جا رہے ہیں کہ آج قصہ تمام ہوگا
یہی تو ہوگا نہ جان لیں گے ہمارا اس میں بھی کام ہوگا


نہ دل کو یارا نہ تاب و طاقت بیان کیا ہو زباں سے حالت
کبھی تو عاشق پہ ہو عنایت فراق میں یہ تمام ہوگا


تمہاری زلفوں کی ہم کو الفت بڑھائے گی دل میں اتنی وحشت
یہ کیا خبر تھی کہ بن کے مجنوں ہمارا بن بن قیام ہوگا


ہمیں ہے کافی وہ چشم مے گوں اسی کی دھن میں جگر ہے پرخوں
نہ خم کی خواہش نہ ہے سبو کی بلا پئے اپنا کام ہوگا


کہوں میں کس سے اب حال دل کا سنبھالے گا کون اس کو آ کر
نہیں ہے غیروں سے ان کو فرصت غریب یوں ہی تمام ہوگا


ستم کرو جس قدر بھی چاہو ہمارا نقصان کچھ نہیں ہے
کہیں گے سب پر جفا تمہیں کو تمہارا مشہور نام ہوگا


یہی ہے آفاقؔ دل کی حسرت نظر سے دیکھیں کسی کا جلوا
اسی تمنا میں جان دیں گے کبھی تو دیدار عام ہوگا