چشم جاناں کے ہیں کس درجہ اشارات وسیع

چشم جاناں کے ہیں کس درجہ اشارات وسیع
ہر تخیل ہے بلند اس کا ہر اک بات وسیع


نہیں رہتی کبھی رفتار زمانہ یکساں
دہر میں دن ہے کبھی اور کبھی رات وسیع


خواہش وصل پہ فرمایا کہ ہاں ہاں ہوگا
مختصر لفظ ہیں لیکن ہیں اشارات وسیع


ایک ہچکی نے کیا قصۂ فرقت کو تمام
ہم سمجھتے تھے کہ ہیں ہجر کے حالات وسیع


کیا تعجب جو کفایت نہ کرے روز حساب
اس قدر ہیں مری تقدیر کی آفات وسیع


ہجر کی ایک گھڑی ایک برس ہوتی ہے
دن کو ہے طول جو فرقت میں تو ہے رات وسیع


حالت نزع میں وہ پوچھتے ہیں کیا کہئے
وقت تھوڑا سا ہے آفاقؔ شکایات وسیع