آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے
آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے پھر شام تلک دشت غریب الوطنی ہے کچھ بھی ہو مگر حسن کی فطرت میں ابھی تک پابندیٔ رسم و رہ خاطر شکنی ہے مت پوچھ کہ کیا رنگ ہے ضبط غم دل میں ہر اشک جو پیتا ہوں وہ ہیرے کی کنی ہے شاعر کے تخیل سے چراغوں کی لوؤں تک ہر چیز تری بزم میں تصویر بنی ہے تم جس ...