Shohrat Bukhari

شہرت بخاری

شہرت بخاری کی غزل

    آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے

    آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے پھر شام تلک دشت غریب الوطنی ہے کچھ بھی ہو مگر حسن کی فطرت میں ابھی تک پابندیٔ رسم و رہ خاطر شکنی ہے مت پوچھ کہ کیا رنگ ہے ضبط غم دل میں ہر اشک جو پیتا ہوں وہ ہیرے کی کنی ہے شاعر کے تخیل سے چراغوں کی لوؤں تک ہر چیز تری بزم میں تصویر بنی ہے تم جس ...

    مزید پڑھیے

    بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے

    بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے دوزخ ہوں دہک رہا ہوں کب سے پتھر ہوئے کان موت کے بھی سولی پہ لٹک رہا ہوں کب سے جھڑتی نہیں گرد آگہی کی دامن کو جھٹک رہا ہوں کب سے لاہور کے کھنڈروں میں یا رب بلبل سا چہک رہا ہوں کب سے روشن نہ ہوئیں غزل کی شمعیں شعلہ سا بھڑک رہا ہوں کب سے تاریک ہیں راستے وفا ...

    مزید پڑھیے

    ان کو دیکھا تھا کہیں یاد نہیں

    ان کو دیکھا تھا کہیں یاد نہیں آسماں تھا کہ زمیں یاد نہیں چاند تاروں کی مندی تھیں آنکھیں تھا کہاں مہر مبیں یاد نہیں نغمہ ہی نغمہ تھا یا رنگ ہی رنگ ہم مکاں تھے کہ مکیں یاد نہیں عہد و پیماں کی جھمکتی شمعیں کس طرح ڈوب گئیں یاد نہیں اب یہ عالم ہے کہ خود ہم کو بھی کیوں ہوئے برق نشیں ...

    مزید پڑھیے

    بزم سنواروں غزلیں گاؤں

    بزم سنواروں غزلیں گاؤں جینے کے انداز بناؤں ہر دم رو رو خون کے آنسو کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں کب تک دل کے بہکانے پر تارے گن گن رات بتاؤں ان کو میرا دھیان نہیں ہے میں کیوں اپنی جان گنواؤں میرا غم کس نے کھایا ہے میں کیوں دنیا کا غم کھاؤں سب سے ترک تعلق کر لوں خود سے رسم و راہ ...

    مزید پڑھیے

    ہر چند سہارا ہے ترے پیار کا دل کو

    ہر چند سہارا ہے ترے پیار کا دل کو رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی لے اڑا نیندیں وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی کھا گیا دل کو یا سانس کا لینا بھی گزر جانا ہے جی سے یا معرکۂ عشق بھی اک کھیل تھا دل کو وہ آئیں تو حیران وہ جائیں تو پریشان یارب کوئی سمجھائے یہ کیا ہو ...

    مزید پڑھیے

    کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے

    کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے وہ جنس ہوں میں جس کا خریدار نہیں ہے اس رات کے گمبھیر اندھیرے میں ہے کیا کیا حاصل تجھے پر دیدۂ بے دار نہیں ہے ممکن ہو تو سینے میں اتر کر تو مرے دیکھ وہ لاش ہوں میں جس کا عزا دار نہیں ہے اک تیرے تغافل نے کمر توڑ کے رکھ دی ورنہ غم دنیا تو مجھے بار ...

    مزید پڑھیے

    کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس

    کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس دو پل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس مٹی کی سوندھ جاتے ہوئے ساتھ لے اڑی ڈالی کا لوچ پات کی سبزی کلی کی باس اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو انس لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ ...

    مزید پڑھیے

    رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے

    رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے آخری شمع بجھا دی ہم نے ایک موہوم تصور کے لیے روح کی آب گنوا دی ہم نے درمیان دل و گلزار حیات غم کی دیوار اٹھا دی ہم نے راکھ بھی پائے نہ کوئی اپنی اب کے وہ آگ لگا دی ہم نے سنسناتے رہے تارے پہروں کیوں تری بات سنا دی ہم نے ہر کڑی راہ میں ہر منزل پر تیرے ہی ...

    مزید پڑھیے

    وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے

    وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے کچھ بھی ہے یہ میرا گھر نہیں ہے تا حد فلک کھنچی ہے دیوار دیوار میں کوئی در نہیں ہے آغاز سفر میں قافلہ تھا اب ایک بھی ہم سفر نہیں ہے کوفہ ہو دمشق ہو مدینہ سادات کا کوئی گھر نہیں ہے وہ، وہ تو نہیں جو سامنے تھا میرا ہے، مرا مگر نہیں ہے اس عہد کی شناخت ...

    مزید پڑھیے

    ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے

    ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے لے آئی شب غم کوئی مرتا بھی تو کیسے اک آگ تھی جو پھونک رہی تھی دو جہاں کو وہ دل سے مرے ہو کے گزرتا بھی تو کیسے ہم پیاس کے ماروں نے عبث آس لگائی برسا ہوا بادل تھا برستا بھی تو کیسے گلچیں کی نظر تاک میں رہتی تھی برابر غنچہ کوئی کھلتا بھی مہکتا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4