شمشاد شاد کی غزل

    قلب کا احتجاج ہوتا ہے

    قلب کا احتجاج ہوتا ہے اور کیا اختلاج ہوتا ہے سب نتیجہ ہے اپنی کرنی کا یہ جو دنیا میں آج ہوتا ہے یہ بھی رنگت بدلتی ہے اپنی لاش کا بھی مزاج ہوتا ہے محو ہوتے ہیں عشق میں جو لوگ ان سے کب کام کاج ہوتا ہے بچ کے چلتا ہے ہر کوئی اس سے شخص جو بد مزاج ہوتا ہے مسلک عشق میں تو کثرت سے ظلم ...

    مزید پڑھیے

    نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے

    نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے اس پہ میرا فن پرواز گراں گزرا ہے یہ الگ بات نتیجہ جو نکلتا لیکن اتنا مایوس کن آغاز گراں گزرا ہے اک نہ اک روز تو کھلنی ہی تھی سچائی مگر فاش اچانک جو ہوا راز گراں گزرا ہے جن میں جرأت نہیں اڑنے کی انہیں کو میرا ہونا یوں مائل پرواز گراں گزرا ہے آتے ...

    مزید پڑھیے

    ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں

    ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں دل لگی کے موسم میں قہقہے بھی زخمی ہیں وحشتوں کے پیروں میں کون باندھے زنجیریں کیا کریں کہاں جائیں فیصلے بھی زخمی ہیں بے حیائی کے سائے غالب آ گئے ہم پر آج کل تمدن کے زاویے بھی زخمی ہیں راہ و رسم کا قائل اب نہیں رہا انساں ہیں لہو لہو رشتے رابطے ...

    مزید پڑھیے

    ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا

    ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا برداشت سے باہر ہو جائے تو اوڑھے کوئی خموشی کیا جو اپنی ذات میں خود سر ہیں کیا ان کا ضمیر جھنجھوڑے کوئی ظاہر پر کان نہ دیں جو انہیں باطن کی بھلا سرگوشی کیا دنیا کی بنائی رسم ہے یہ جو ہم کو نبھانی ہے ورنہ نازاں جس پر خود گلشن ہو اس ...

    مزید پڑھیے

    حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا

    حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا صبح کا رات پہ تنقید سے آغاز کیا شعر گوئی کے سفر کا میاں ناصح ہم نے اپنے افکار کی تجدید سے آغاز کیا وہ پس و پیش کہ سوچوں تو لرز جاتا ہوں اس کی ترجیح نے تردید سے آغاز کیا دیکھتا کیا ہے مرا شوق جنوں میں نے تو اپنے ہر دن کا تری دید سے آغاز کیا عرض‌ ...

    مزید پڑھیے

    نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے

    نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے اس پہ میرا فن پرواز گراں گزرا ہے یہ الگ بات نتیجہ جو نکلتا لیکن اتنا مایوس کن آغاز گراں گزرا ہے اک نہ اک روز تو کھلنی ہی تھی سچائی مگر فاش اچانک جو ہوا راز گراں گزرا ہے جن میں جرأت نہیں اڑنے کی انہیں کو میرا ہونا یوں مائل پرواز گراں گزرا ہے آتے ...

    مزید پڑھیے

    تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں

    تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں نازاں ہوں ہو کر تجھ سے وابستہ میں جان کے بھی انجان بنی رہتی ہے تو پاس کبھی آ جاؤں جو آہستہ میں پیار کی خوشبو سے مہکاتا ہوں محفل اپنے آپ میں پھولوں کا گلدستہ میں ورنہ کون سنے کم ظرفوں کے طعنے مجبوری کے باعث ہوں لب بستہ میں وہ جو عیاں ہو کر بھی نہاں ...

    مزید پڑھیے

    دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب

    دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب برچھی کبھی کٹار لگے دل ربا کے لب گفت و شنید میں بڑے بے باک ہیں مگر دیکھا مجھے تو کھل نہ سکے لب کشا کے لب گفتار و آن بان کا عالم نہ پوچھئے خوش رنگ و جاں فزا ہیں مرے ہم نوا کے لب ہو جائے پل میں خاک وہ جس کو یہ چوم لیں جلتے ہوئے شرارے ہیں جان ادا کے ...

    مزید پڑھیے

    گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

    گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی ابن آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات بنت حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی فرق حالانکہ بہت تھوڑا ہے دونوں میں مگر سر کے آنچل کو کفن بنتے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے

    تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے مٹیں گے تیری چاہت میں وفا کے باب دیکھیں گے یہ آنکھیں یار کے دیدار کی پیاسی ہیں مدت سے وہ آئیں بام پر تو جلوۂ مہتاب دیکھیں گے خمار خود پرستی بھی کبھی اترے گا موجوں کا تو پھر اے قلزم ہستی تجھے پایاب دیکھیں گے رسائی جو تری محفل تلک اک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4