ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں
ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں
دل لگی کے موسم میں قہقہے بھی زخمی ہیں
وحشتوں کے پیروں میں کون باندھے زنجیریں
کیا کریں کہاں جائیں فیصلے بھی زخمی ہیں
بے حیائی کے سائے غالب آ گئے ہم پر
آج کل تمدن کے زاویے بھی زخمی ہیں
راہ و رسم کا قائل اب نہیں رہا انساں
ہیں لہو لہو رشتے رابطے بھی زخمی ہیں
کیمیائی فصلوں کے باعث اب غذاؤں سے
گم ہوئی غذائیت ذائقے بھی زخمی ہیں
اب کہاں نکلتے ہیں حاصل غزل اشعار
چیختی ردیفیں ہیں قافیے بھی زخمی ہیں
بے غرض نہیں جاتا اب کوئی عیادت کو
اب تو غم گساری کے مشغلے بھی زخمی ہیں
الغرض پہنچنا ہے آگہی کی منزل پر
حسرتیں ہیں پژمردہ راستے بھی زخمی ہیں
شادؔ کس طرح اپنا علم بانٹیں اوروں کو
نطق و لب مقفل ہیں فلسفے بھی زخمی ہیں