Shifa Kajgavnwi

شفا کجگاؤنوی

شفا کجگاؤنوی کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

    خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا جب سے ہے قید حصاروں میں تکبر کے انا خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا جو ذریعہ تھا شکم سیریٔ انساں کا سدا پیٹ پر باندھے ہے پتھر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی

    سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی شکایت چیز ایسی ہے بہ آسانی نہیں جاتی نگاہوں نے نہ جانے اس کی دیکھے کون سے منظر بہت چاہا پہ آنکھوں سے یہ ویرانی نہیں جاتی تخیل دستکیں دے کر پلٹ جاتا ہے اکثر ہی انا کی جذبۂ دل پر نگہبانی نہیں جاتی بہت ممکن ہے خط کا بھی ترے مضموں بدل جائے ابھی ...

    مزید پڑھیے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

    مزید پڑھیے

    اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے

    اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے ابر کو موڑ دے اس سمت کو ساون کر دے اس سے پہلے کہ کوئی توڑ کے بکھرا دے مجھے میرے مالک تو میرے حوصلے آہن کر دے خار و خس کی ہی حکومت ہے گلستانوں میں اپنی رحمت سے ہرا میرا یہ گلشن کر دے حلم ایسا کہ جو دشمن کو بنا لے اپنا علم وہ دے جو خیالات کو روشن کر ...

    مزید پڑھیے

    ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں

    ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں یہ ظلم کس پہ ہوا روئی خاک مقتل کیوں جو خواب دیکھتی آئی ہوں اپنے بچپن سے ادھورا خواب وہ ہوتا نہیں مکمل کیوں جو آرزو تھی کہ ہوں ارد گرد گل بوٹے تو تم نے ناگ پھنی کے اگائے جنگل کیوں ہم اپنے شوق کی دنیا میں گم تھے کچھ ایسے سمجھ نہ پائے کہ بھیگا ...

    مزید پڑھیے

تمام

7 نظم (Nazm)

    تلاش

    نہ جانے کیوں یہ لگ رہا ہے جیسے کھو گیا ہے کچھ کبھی یہ لگ رہا ہے جیسے ہم نے پا لیا ہے کچھ وہ کیا ہے جو کہ کھو گیا وہ کیا تھا جس کو پا لیا یہ بات مشتمل ہے ایک عرصہ‌ٔ عقیل پر قلندر ایک رو‌ نما ہوا تھا اک سبیل پر وہ پہلے علم و فن کی پوری پیاس کو جگاتا تھا سوال پوچھتا تھا اور تشنگی بجھاتا ...

    مزید پڑھیے

    قتل چراغاں

    آج پھر قتل چراغاں کا یہ منظر دیکھو آج پھر خاک سی اڑتی ہے چمن زاروں میں پھوٹا پھر خون کا سوتا کہیں کوہساروں میں آج پھر مقتل انساں پہ بڑی رونق ہے آج پھر صورت‌ شیطاں پہ بڑی رونق ہے کچھ دھماکوں نے جو تصویر بدل ڈالی ہے خاک بھی خاک نہیں ہے یہاں اب لالے ہے بن کے کون آیا ہے اب نوع بشر کا ...

    مزید پڑھیے

    خودداری

    کسی چراغ سے ہنس کر کہا یہ آندھی نے کہ میرے سامنے اوقات کیا تمہاری ہے بڑے ہی فخر سے بولا چراغ اے آندھی جو بجھ گیا تو شہیدوں میں نام ہوگا مرا جلا رہا تو اندھیرا غلام ہوگا مرا

    مزید پڑھیے

    عید

    چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے خوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہے رخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہے دلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے مگر رکو ذرا ٹھہرو یہ سسکیاں کیسی خوشی کہ رت میں دکھوں کی یہ بدلیاں کیسی سنو یہ غور سے مائیں بلک رہی ہیں کہیں یہ دیکھو بچوں کی آنکھیں چھلک ...

    مزید پڑھیے

    سانپ سیڑھی

    وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو ہم عہد طفلی میں کھیلتے تھے اگرچہ سانپوں سے گھر بھی جاتے جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے وہ زہر ہوتا تھا اتنا ہلکا کہ مر نہ پاتے پھر اپنی جد و جہد کی خاطر ہم اٹھ کے قسمت کو آزماتے اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ اکثر ہمیں وہ سیڑھی ملی ہے جس ...

    مزید پڑھیے

تمام