Shifa Kajgavnwi

شفا کجگاؤنوی

شفا کجگاؤنوی کی غزل

    خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

    خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا جب سے ہے قید حصاروں میں تکبر کے انا خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا جو ذریعہ تھا شکم سیریٔ انساں کا سدا پیٹ پر باندھے ہے پتھر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی

    سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی شکایت چیز ایسی ہے بہ آسانی نہیں جاتی نگاہوں نے نہ جانے اس کی دیکھے کون سے منظر بہت چاہا پہ آنکھوں سے یہ ویرانی نہیں جاتی تخیل دستکیں دے کر پلٹ جاتا ہے اکثر ہی انا کی جذبۂ دل پر نگہبانی نہیں جاتی بہت ممکن ہے خط کا بھی ترے مضموں بدل جائے ابھی ...

    مزید پڑھیے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

    مزید پڑھیے

    اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے

    اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے ابر کو موڑ دے اس سمت کو ساون کر دے اس سے پہلے کہ کوئی توڑ کے بکھرا دے مجھے میرے مالک تو میرے حوصلے آہن کر دے خار و خس کی ہی حکومت ہے گلستانوں میں اپنی رحمت سے ہرا میرا یہ گلشن کر دے حلم ایسا کہ جو دشمن کو بنا لے اپنا علم وہ دے جو خیالات کو روشن کر ...

    مزید پڑھیے

    ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں

    ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں یہ ظلم کس پہ ہوا روئی خاک مقتل کیوں جو خواب دیکھتی آئی ہوں اپنے بچپن سے ادھورا خواب وہ ہوتا نہیں مکمل کیوں جو آرزو تھی کہ ہوں ارد گرد گل بوٹے تو تم نے ناگ پھنی کے اگائے جنگل کیوں ہم اپنے شوق کی دنیا میں گم تھے کچھ ایسے سمجھ نہ پائے کہ بھیگا ...

    مزید پڑھیے

    دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

    دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں عدل کے لئے ملزم کب سے راہ تکتا ہے کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں یوں لباس بوسیدہ مال و زر سے خالی ہے بے کراں محبت ہے مفلسی کے ...

    مزید پڑھیے

    وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

    وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا درد حد سے سوا نہیں ہوتا میری کوشش کو جو رضا ملتی لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا ہم زباں تو بہت ملے لیکن کیوں کوئی ہم نوا نہیں ہوتا ہم اگر پہلے جاگ جاتے تو سانحہ وہ ہوا نہیں ہوتا آگ بستی کی گر بجھاتا تو اس کا گھر بھی جلا نہیں ہوتا کوئی کوشش کبھی تو کی ...

    مزید پڑھیے

    نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے

    نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے پہ الگ ہے اس کی فطرت وہ وفا شعار کم ہے مری حسرتیں مٹیں گی مرے خواب ہوں گے پورے مجھے اپنے اس یقیں پر ذرا اعتبار کم ہے نہ بڑھائے اور دوری کوئی آنے والا موسم چلو فاصلے مٹا لیں کہ ابھی درار کم ہے یہ تم ہی پہ منحصر ہے کہ تم آؤ یا نہ آؤ میں بھلا ...

    مزید پڑھیے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

    جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

    مزید پڑھیے

    تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں

    تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں جب ہم خلوص و محبت کو آزماتے ہیں خوشی کا ایک نیا زاویہ ابھرتا ہے ہم اپنے بچوں سے جس وقت ہار جاتے ہیں شغف ہے خوب روایات رفتگاں سے مگر ہم عہد نو کے ترانے بھی گنگناتے ہیں اداس شب بھی اماوس کی مسکراتی ہے جو قمقمے سے نگاہوں میں جگمگاتے ہیں ہمارے بیچ جو ...

    مزید پڑھیے