خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا
خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا جب سے ہے قید حصاروں میں تکبر کے انا خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا جو ذریعہ تھا شکم سیریٔ انساں کا سدا پیٹ پر باندھے ہے پتھر نہیں ...