اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے
اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے
ابر کو موڑ دے اس سمت کو ساون کر دے
اس سے پہلے کہ کوئی توڑ کے بکھرا دے مجھے
میرے مالک تو میرے حوصلے آہن کر دے
خار و خس کی ہی حکومت ہے گلستانوں میں
اپنی رحمت سے ہرا میرا یہ گلشن کر دے
حلم ایسا کہ جو دشمن کو بنا لے اپنا
علم وہ دے جو خیالات کو روشن کر دے
تجھ کو اللہ نے بخشا ہے شفاؔ کیا کیا کچھ
بند ہر وقت کا یہ نالہ و شیون کر دے