سانپ سیڑھی

وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو
ہم عہد طفلی میں کھیلتے تھے
اگرچہ سانپوں سے گھر بھی جاتے
جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا
تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے
وہ زہر ہوتا تھا اتنا ہلکا
کہ مر نہ پاتے
پھر اپنی جد و جہد کی خاطر
ہم اٹھ کے قسمت کو آزماتے
اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ اکثر
ہمیں وہ سیڑھی ملی ہے جس سے
بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں
مگر نہ جانے کہ سانپ سیڑھی کا
اب یہ کیسا ہے کھیل نکلا
کہ چار سمتوں میں سانپ ہیں بس
جو اپنے پھن کو اٹھائے اوپر
ہر ایک لمحہ ڈرا رہے ہیں
کہیں بھی سیڑھی نہیں ہے کوئی