Sheerin Ahmad

شیریں احمد

شیریں احمد کی نظم

    پسند

    دن بھرتے ہیں دکھ بڑھتے ہیں خوشیاں کتنی کم ہیں آسمان کتنا اونچا اور زمیں کتنی چھوٹی چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے پھر بھی زمین سورج ہی کے گرد گھومتی ہے شاید اسے بھی پسند ہے تپش میں پگھلنا

    مزید پڑھیے

    میں انتظار کروں گی

    میں انتظار کروں گی اس وقت کا جب کسی جنگ میں محبت جدا نہ ہوگی جب محبت کا دائرہ لا محدود ہو جائے گا جب محبت جسم کی محتاج نہیں رہے گی جب تم مجھے اپنا استعارہ بنا دو گے اور میں خود کو تمہاری تشبیہ بنا لوں گی

    مزید پڑھیے

    مجھے معاف کر دینا

    اے زمین مجھے معاف کر دینا مانتی ہوں تیرے پھولوں میں خوب رس بھرا ہے مگر اب مجھ دل دراز کو کچھ اور دل جیتنے ہیں اپنا ذائقہ بدلنا ہے میں تو تتلی ہوں تجھے مان لینا چاہیے میری محبت کا دائرہ بہت وسیع ہے اے زمین میرے پیروں میں بیڑیاں یوں نہ ڈال کہ آزاد ہونے کے بعد میں لوٹ نہ سکوں

    مزید پڑھیے

    گرتا ہوا درخت

    کیا وہ بھی کبھی تھا ہاں وہ تھا ایک چھوٹا سا بیج ایک دن زمین سے باہر آیا پل پل بڑھتا رہا پل پل ترستا رہا رہائی کے لیے لیکن رہائی ہر کسی کو نہیں ملتی وہ ایک ہی جگہ کھڑا ہوا بڑھتا ہی چلا گیا کیا اس نے پھل دیے؟ نہیں لیکن وہ پھل دینے کے قابل بن گیا ایک دن بہت زور کا طوفان آیا سب کچھ اکھاڑ ...

    مزید پڑھیے

    انڈا

    یہ ایک انڈا ہے کتنی مشابہت ہے اس میں اور ہم میں اس کے اندر ایک سے زائد رنگ چھپے ہوئے ہیں لیکن صرف ایک رنگ اس کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے کہنے کو مضبوط پر اتنا نازک کہ کسی ہم ذات سے بھی ٹکرا کر بکھر جائے اور اپنا وجود کھو بیٹھے

    مزید پڑھیے

    دعوت نامہ

    زندگی ایک دن مجھ کو بھی تلخ کر دے گی میں خوشیوں کو دعوت دیتے تھکنا نہیں چاہتی کہیں بگ بینگ سے پہلے خوشی کی وداعی تو نہیں ہو گئی تھی کہیں میں اسے غلط جگہ تو دعوت نامہ نہیں بھیج دیا

    مزید پڑھیے

    چاند

    روشنی میں اپنی عجیب سی کشش لیے یہ گول دائرہ اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے تم کون ہو کیا پہچان ہے تمہاری

    مزید پڑھیے

    عام سا دولہا

    آج پھر ایک لڑکی رخصت ہو کر جا رہی ہے آنکھوں میں اپنی سپنے سجائے سپنوں کے محل میں پیار بسائے پھر ویسا ہی گھر ویسا ہی چولہا ویسے ہی لوگ اور ایک عام سا دولہا دولہن چاہتے ہوئے بھی محل کو قائم نہیں رکھ پائے گی دولہا پا کر بھی دولہن کو کبھی نہیں چاہے گا

    مزید پڑھیے

    موم کی گڑیا

    موم کی گڑیا خالی آنکھوں سے اپنی خالی مٹھی کو پگھلتے دیکھ رہی ہے کل تک ترازو اس کے ہاتھ میں تھی آج ایک فیصلہ دینے کے بعد مجرم بنی کھڑی ہے اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے

    مزید پڑھیے

    طلسم

    شاطر لوگوں نے اس کے آتے ہی دیوار کھینچ دی کہیں اس کا سایہ مجھے چھو نہ لے ایک احساس کو زندگی ملتی ہے: کوئی تو طلسم ہے جو ان کے خوف کا سبب بنا

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2