پسند
دن بھرتے ہیں دکھ بڑھتے ہیں خوشیاں کتنی کم ہیں آسمان کتنا اونچا اور زمیں کتنی چھوٹی چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے پھر بھی زمین سورج ہی کے گرد گھومتی ہے شاید اسے بھی پسند ہے تپش میں پگھلنا
دن بھرتے ہیں دکھ بڑھتے ہیں خوشیاں کتنی کم ہیں آسمان کتنا اونچا اور زمیں کتنی چھوٹی چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے پھر بھی زمین سورج ہی کے گرد گھومتی ہے شاید اسے بھی پسند ہے تپش میں پگھلنا
میں انتظار کروں گی اس وقت کا جب کسی جنگ میں محبت جدا نہ ہوگی جب محبت کا دائرہ لا محدود ہو جائے گا جب محبت جسم کی محتاج نہیں رہے گی جب تم مجھے اپنا استعارہ بنا دو گے اور میں خود کو تمہاری تشبیہ بنا لوں گی
اے زمین مجھے معاف کر دینا مانتی ہوں تیرے پھولوں میں خوب رس بھرا ہے مگر اب مجھ دل دراز کو کچھ اور دل جیتنے ہیں اپنا ذائقہ بدلنا ہے میں تو تتلی ہوں تجھے مان لینا چاہیے میری محبت کا دائرہ بہت وسیع ہے اے زمین میرے پیروں میں بیڑیاں یوں نہ ڈال کہ آزاد ہونے کے بعد میں لوٹ نہ سکوں
کیا وہ بھی کبھی تھا ہاں وہ تھا ایک چھوٹا سا بیج ایک دن زمین سے باہر آیا پل پل بڑھتا رہا پل پل ترستا رہا رہائی کے لیے لیکن رہائی ہر کسی کو نہیں ملتی وہ ایک ہی جگہ کھڑا ہوا بڑھتا ہی چلا گیا کیا اس نے پھل دیے؟ نہیں لیکن وہ پھل دینے کے قابل بن گیا ایک دن بہت زور کا طوفان آیا سب کچھ اکھاڑ ...
یہ ایک انڈا ہے کتنی مشابہت ہے اس میں اور ہم میں اس کے اندر ایک سے زائد رنگ چھپے ہوئے ہیں لیکن صرف ایک رنگ اس کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے کہنے کو مضبوط پر اتنا نازک کہ کسی ہم ذات سے بھی ٹکرا کر بکھر جائے اور اپنا وجود کھو بیٹھے
زندگی ایک دن مجھ کو بھی تلخ کر دے گی میں خوشیوں کو دعوت دیتے تھکنا نہیں چاہتی کہیں بگ بینگ سے پہلے خوشی کی وداعی تو نہیں ہو گئی تھی کہیں میں اسے غلط جگہ تو دعوت نامہ نہیں بھیج دیا
روشنی میں اپنی عجیب سی کشش لیے یہ گول دائرہ اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے تم کون ہو کیا پہچان ہے تمہاری
آج پھر ایک لڑکی رخصت ہو کر جا رہی ہے آنکھوں میں اپنی سپنے سجائے سپنوں کے محل میں پیار بسائے پھر ویسا ہی گھر ویسا ہی چولہا ویسے ہی لوگ اور ایک عام سا دولہا دولہن چاہتے ہوئے بھی محل کو قائم نہیں رکھ پائے گی دولہا پا کر بھی دولہن کو کبھی نہیں چاہے گا
موم کی گڑیا خالی آنکھوں سے اپنی خالی مٹھی کو پگھلتے دیکھ رہی ہے کل تک ترازو اس کے ہاتھ میں تھی آج ایک فیصلہ دینے کے بعد مجرم بنی کھڑی ہے اور اپنی خالی مٹھی کو پگھلتا دیکھ رہی ہے
شاطر لوگوں نے اس کے آتے ہی دیوار کھینچ دی کہیں اس کا سایہ مجھے چھو نہ لے ایک احساس کو زندگی ملتی ہے: کوئی تو طلسم ہے جو ان کے خوف کا سبب بنا