Sheen Kaaf Nizam

شین کاف نظام

  • 1947

ممتاز ما بعد جدید شاعر، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

Prominent post-modern poet, Sahitya Academy award winner.

شین کاف نظام کے تمام مواد

27 غزل (Ghazal)

    موسم غم گزر نہ جائے کہیں

    موسم غم گزر نہ جائے کہیں شب میں سورج نکل نہ آئے کہیں اپنی تنہائیاں چھپانے کو بت بنائے صنم گرائے کہیں وہ سراپا ہے خواب خوشبو کا جھونکا جھونکا بکھر نہ جائے کہیں ڈر یہ کیسا ہوا سفر میں مجھے راستہ ختم ہو نہ جائے کہیں کیا بتاؤں وہ کیوں پریشاں ہے مجھ کو ڈھونڈے کہیں چھپائے کہیں سب ...

    مزید پڑھیے

    ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں

    ریت پر جتنے بھی نوشتے ہیں اپنے ماحول کے مجلے ہیں کون جانے کہاں دفینے ہیں اپنے تو پاس صرف نقشے ہیں صورتیں چھین لے گیا کوئی اس برس آئینے اکیلے ہیں خواب خوشبو، خیال، اور خدشے ایک دیوار سو دریچے ہیں دوستی عشق اور وفاداری سخت جاں میں بھی نرم گوشے ہیں پڑھ سکو تو کبھی پڑھو ان ...

    مزید پڑھیے

    پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے

    پرکھوں سے جو ملی ہے وہ دولت بھی لے نہ جائے ظالم ہوائے شہر ہے عزت بھی لے نہ جائے وحشت تو سنگ و خشت کی ترتیب لے گئی اب فکر یہ ہے دشت کی وسعت بھی لے نہ جائے پیچھے پڑا ہے سب کے جو پرچھائیوں کا پاپ ہم سے عداوتوں کی وہ عادت بھی لے نہ جائے آنگن اجڑ گیا ہے تو غم اس کا تا بہ کے محتاط رہ کہ ...

    مزید پڑھیے

    موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے

    موج ہوا سے پھولوں کے چہرے اتر گئے گل ہو گئے چراغ گھروندے بکھر گئے پیڑوں کو چھوڑ کر جو اڑے ان کا ذکر کیا پالے ہوئے بھی غیر کی چھت پر اتر گئے یادوں کی رت کے آتے ہی سب ہو گئے ہرے ہم تو سمجھ رہے تھے سبھی زخم بھر گئے ہم جا رہے ہیں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے دیوار و در کی فکر میں کچھ لوگ گھر ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

    آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا آنسو مرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر ورنہ کہیں گے لوگ دعا سے اثر گیا نکلی ...

    مزید پڑھیے

تمام

11 نظم (Nazm)

    مشورہ

    بہت پرانی ہمارے رشتوں کی سب قبائیں جگہ جگہ سے اسی لئے سب مسک رہی ہیں اتاریں ان کو پرانے کپڑوں کے گندے گھر میں بند کر دیں کبھی کوئی سب پھٹے پرانے ہمارے کپڑے خرید لے گا اور ان کے بدلے چمکتا سا کچھ تھمائے شاید

    مزید پڑھیے

    سمت کا صحرا

    کیسا لگتا ہے اب جب ہو گئے ہیں ایک جیسے چاروں اور چھور ساربانوں کے کہیں بیٹھتے اٹھتے مڑتے ٹوٹتے سر ہیں نہ اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی دوریوں کے دریاؤں میں دھیرے دھیرے ڈوبتی گونجیں نہ کہیں خچروں پہ بیٹھیں خواب بنتیں خانہ بدوش دوشیزائیں جن کے برہے سننے ٹھہر جاتا تھا ساون تمہارے ...

    مزید پڑھیے

    پرانے مندر میں شام

    اب تو وہاں نشان ہے جہاں کبھی دیوتا کہ مورتی رہی ہوگی شکستہ شہتیر میں پھنسا بچا زنجیر کا حلقہ جس میں شاید کبھی گھنٹی لٹکتی ہو صحن میں راکھ ہے کسی نے الاؤ جلایا ہوگا روشنی اور گرمی کے لئے درکتی دہلیز پر ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ پرانے سجدے چنتی ہے پیلے پائے دانوں پر نقوش پا ابھرتے ہیں

    مزید پڑھیے

    تجسس

    ایک بار صرف ایک بار آتی ہو دبے پاؤں اور دبے پاؤں ہی گزر جاتی ہو تمہاری آمد اور ساعتوں کا قیام کتنا مختصر ہے لیکن کتنا فخر آور مگر جہاں تم بار بار پلٹ پلٹ کر جاتی ہو وہاں بھی تمہارے یہی معنی ہیں بہار

    مزید پڑھیے

    سبھی ویسے کا ویسا ہے

    سبھی کچھ ویسے کا ویسا ہے کہیں کچھ بھی نہیں بدلا دور سے آواز دیتیں محرابیں دھوجائیں نکیلے اور گول گنبد غٹرغوں کرتے کبوتر ٹوٹتے بکھرتے قلعے کی منہدم برجیوں پہ اگی جلی گھاس برساتی نالے کی ناف سے نکلتی پگڈنڈی پار کوٹھار گاڈولیا لوہار گھنا چھتنار پیڑ پیپل کا اونگھتی السائی ...

    مزید پڑھیے

تمام