Shaziya Mufti

شاذیہ مفتی

شاذیہ مفتی کے تمام مواد

1 غزل (Ghazal)

    خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

    خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں تمہارے پیار کا قرضہ چکا کے آئی ہوں چراغ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود تمہاری آنکھوں کے دیپک بجھا کے آئی ہوں پرانے پیڑ مرے ساتھ ساتھ روتے رہے جو نام مل کے لکھے تھے مٹا ...

    مزید پڑھیے

2 نظم (Nazm)

    اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

    خود ہی اپنی سکھی سہیلی دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں دور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو کیسے میں چھوئی موئی سی بیچ سڑک اس شام گری تھی میری چادر تیز ہوا سے دور تلک اڑتی ہی گئی تھی نوسر باز ہوا سے کیسے دھوکا کھایا اچھی بری نظریں دنیا کی اپنی ہار ...

    مزید پڑھیے

    زندگی تیرے ناکام لوگوں نے

    زندگی تیرے ناکام لوگوں نے تو مشکلوں سے ہمیشہ گزارا کیا ریگزاروں میں بیٹھے سلگتے ہوئے خواب بنتے رہے درد چنتے رہے دل کے پاگل سروں پر اداسی کے ہی گیت سنتے رہے سر کو دھنتے رہے گیت گاتے ہوئے زخم بنتے ہوئے خواب چنتے ہوئے دشت در دشت جیون کی گٹھری اٹھائے ہی چلتے رہے سانس کی دھونکنی یوں ...

    مزید پڑھیے