Shaziya Mufti

شاذیہ مفتی

شاذیہ مفتی کی نظم

    اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

    خود ہی اپنی سکھی سہیلی دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں دور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو کیسے میں چھوئی موئی سی بیچ سڑک اس شام گری تھی میری چادر تیز ہوا سے دور تلک اڑتی ہی گئی تھی نوسر باز ہوا سے کیسے دھوکا کھایا اچھی بری نظریں دنیا کی اپنی ہار ...

    مزید پڑھیے

    زندگی تیرے ناکام لوگوں نے

    زندگی تیرے ناکام لوگوں نے تو مشکلوں سے ہمیشہ گزارا کیا ریگزاروں میں بیٹھے سلگتے ہوئے خواب بنتے رہے درد چنتے رہے دل کے پاگل سروں پر اداسی کے ہی گیت سنتے رہے سر کو دھنتے رہے گیت گاتے ہوئے زخم بنتے ہوئے خواب چنتے ہوئے دشت در دشت جیون کی گٹھری اٹھائے ہی چلتے رہے سانس کی دھونکنی یوں ...

    مزید پڑھیے