خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں
خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں تمہارے پیار کا قرضہ چکا کے آئی ہوں چراغ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود تمہاری آنکھوں کے دیپک بجھا کے آئی ہوں پرانے پیڑ مرے ساتھ ساتھ روتے رہے جو نام مل کے لکھے تھے مٹا ...