Shaziya Mufti

شاذیہ مفتی

شاذیہ مفتی کی غزل

    خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

    خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں تمہارے پیار کا قرضہ چکا کے آئی ہوں چراغ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود تمہاری آنکھوں کے دیپک بجھا کے آئی ہوں پرانے پیڑ مرے ساتھ ساتھ روتے رہے جو نام مل کے لکھے تھے مٹا ...

    مزید پڑھیے