Qaisar Haideri Dehlvi

قیصر حیدری دہلوی

قیصر حیدری دہلوی کی غزل

    جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج

    جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج اف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آج دونوں کو ہر طرف ہے ترا انتظار آج دل کو قرار ہے نہ نظر کو قرار آج دیکھیں تو چوم لیں دم آرائش آئینہ ان کو بھی اپنی شکل پہ آ جائے پیار آج لو انتہائے شوق نے دیوانہ کر دیا میں ہنس رہا ہوں صبح سے بے اختیار آج دل محو ...

    مزید پڑھیے

    آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی پر جو کبھی تم نے عنایت کی تھی اب وہ توفیق عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں اور حاصل ہو کوئی غم تو اجل کو سمجھیں زندگی راز حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں اور افسانۂ ماضی میں تو رکھا کیا ہے اب سکوں لفظ روایت کے سوا ...

    مزید پڑھیے

    اب اس کا اور کیا انجام ہوگا

    اب اس کا اور کیا انجام ہوگا محبت کر کے جو بدنام ہوگا ابھی انساں ہے تشنہ کام الفت ابھی نام وفا بدنام ہوگا جو آغاز سحر کا ہے نظارہ وہی میرا چراغ شام ہوگا کلی پر رات بھر روئے گی شبنم تبسم موت کا پیغام ہوگا

    مزید پڑھیے

    بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے

    بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے بڑی بربادیوں کے بعد یہ آباد ہوتا ہے ٹھہر اے گردش دوراں وہ لب جنبش میں آتے ہیں سراپا گوش ہو کر سن کہ کیا ارشاد ہوتا ہے در ساقی سے آزاد دو عالم اٹھ نہیں سکتا قیود مذہب و ملت سے رند آزاد ہوتا ہے گزشتہ حال الفت کیا سنو گے کیا سناؤں گا یہ قصہ کچھ ...

    مزید پڑھیے

    بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا

    بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا یہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتا ہمیں ترکیب ہی نظارۂ رخ کی نہیں آتی کہ وہ ہیں دیکھنے کی شے مگر دیکھا نہیں جاتا خدا جرأت نہ دے مجھ کو کسی دن لب کشائی کی کہ مجھ سے نالۂ محروم اثر دیکھا نہیں جاتا خدا نے شرم رکھ لی ذوق نظارہ کی محفل ...

    مزید پڑھیے

    بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گے

    بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گے کہ انوار حقیقت طالبان دل بھی دیکھیں گے خدا توفیق دے ہم کو تو دل کو دل بھی دیکھیں گے انہیں آنکھوں سے ہم آسان ہر مشکل بھی دیکھیں گے نہ کامل ذوق نظارہ نہ شوق جادہ پیمائی اگر کامل طلب ہے تو مذاق دل بھی دیکھیں گے وہ کشتی آج جو ٹکرا رہی ہے موج ...

    مزید پڑھیے

    جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی

    جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگی کتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگی آج تک بھی ترے جلووں کو نہ پہنچیں نظریں کب کوئی آنکھ ترے رخ پہ ٹھہرتی ہوگی کتنی گہرائیوں میں ڈوبتی ہوگی ہستی جب کوئی بات کسی دل میں اترتی ہوگی اے مرے دل یہ غریب الوطنی کیسی ہے کس کے پہلو میں تری رات گزرتی ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں

    کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں یہ دیوانے بھی گل چھرے اڑاتے ہیں بیاباں میں سما کر رہ گیا ہر ان کا جلوہ قلب سوزاں میں کہاں سے اتنی وسعت آ گئی اس تنگ داماں میں سلیقہ خاک اڑانے کا بڑی مشکل سے آتا ہے بگولے سر پٹک کر رہ گئے آخر بیاباں میں ہنسی کلیوں کے لب پر ہے قبائے گل کے ...

    مزید پڑھیے

    ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور

    ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور بدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اور افسانۂ اندوہ میں یکساں ہے ہر اک شخص اس دور پر آشوب میں تم اور نہ ہم اور لے جاتے ہیں بت خانے سے دل اپنا جلا کر رکھ لیں گے نئی شمع سر طاق حرم اور ہر شخص تھا خاموش مرے بعد ازل میں پوچھا جو گیا ہے کوئی ...

    مزید پڑھیے

    تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا

    تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیا آج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیا ہم کس امید پہ آئندہ کوئی آہ کریں ہم نے کس آہ کو ممنون اثر دیکھ لیا کروٹیں لیتے ہوئے تم بھی تصور میں ملے تم کو بھی زینت آغوش نظر دیکھ لیا تیرے بیمار کو کیوں دیکھنے آئے تھے طبیب پیار کی آنکھ سے تو نے نہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2