تری بربادیوں کا ذکر بزم دل براں تک ہے
تری بربادیوں کا ذکر بزم دل براں تک ہے
کہاں کی بات ہے اے دل مگر پہنچی کہاں تک ہے
تو کیا جانے محبت کے مزے اے ناصح ناداں
پہنچ تری نگاہوں کی فقط سود و زیاں تک ہے
ہم انساں ہیں مگر تخلیق اعلیٰ ہیں کہ اے ہمدم
ہمارے اوج کا چرچا زمیں سے آسماں تک ہے
محبت آزماتی ہے محبت کرنے والوں کو
یہ سختی اے دل بیتاب تجھ پر امتحاں تک ہے
جہاں میں ویسے تو جیتے ہیں سب لیکن جو سچ پوچھو
مزہ جینے کا دنیا میں بہار دوستاں تک ہے
کوئی جب دوست کہتا ہے تو سن لیتا ہوں اے آسیؔ
کہ اب تو دوستی اس عہد میں حسن بیاں تک ہے