نہ آنا تھا نہ آیا آنے والا

نہ آنا تھا نہ آیا آنے والا
گیا دنیا سے آخر جانے والا


چھپاؤ لاکھ تم اپنے کو لیکن
تمہیں پا کر رہے گا پانے والا


محبت کو سمجھ سے واسطہ کیا
کہو اب چپ رہے سمجھانے والا


یہاں بے سود ہے ذکر غم دل
یہاں کوئی نہیں غم کھانے والا


مجھے تو ہے غرض انسانیت سے
حرم والا ہو یا بت خانے والا


سمجھنے والا اب کوئی نہیں ہے
جسے دیکھو وہ ہے سمجھانے والا


ہزاروں ملتے ہیں غم دینے والے
کوئی ملتا نہیں غم کھانے والا


سبھی کا تم تو غم کھاتے ہو آسیؔ
تمہارا کون ہے غم کھانے والا