کہاں کسی کی نظر ہے تری نظر کی طرح
کہاں کسی کی نظر ہے تری نظر کی طرح
جو کام دل کا بھی کرتی چلے جگر کی طرح
بہت سے ایسے بھی دنیا میں لوگ ملتے ہیں
جو با خبر ہیں مگر ہیں وہ بے خبر کی طرح
یہ بربریت و وحشت یہ آگ اور یہ دھواں
بشر کو رہنا بھی مشکل ہے اب بشر کی طرح
اسیر حور ہیں واعظ اب ان کی کون سنے
کہانی آپ کی ہے طول مختصر کی طرح
برسنے کو تو برستا ہے ابر نیساں بھی
مگر برس نہ سکا میری چشم تر کی طرح
نہ جانے کون سے عالم میں گم ہوا آسیؔ
نہ با خبر کی طرح ہے نہ بے خبر کی طرح