لو آ گیا ہے کوہ ندا کان نہ دھرو
لو آ گیا ہے کوہ ندا کان نہ دھرو
اک شور ہر طرف ہے بپا کان نہ دھرو
چھپ جاؤ ان پروں میں مسافت سمیٹ لو
مسموم ہو گئی ہے فضا کان نہ دھرو
ہم بولنے کے کام پر مامور ہیں مگر
کچھ زہر بھی ہے اس میں بھرا کان نہ دھرو
ہر دل میں بے قرار سی اک لہر موجزن
ہر لب پہ ہے کسی کا گلہ کان نہ دھرو
لب حرف اضطراب کا پردہ نہ رکھ سکے
سمجھو کہ میں نے کچھ نہ کہا کان نہ دھرو
چھن جائے نہ کہیں یہ صدا جاگتے رہو
رستے میں آئے کوہ ندا کان نہ دھرو
حرف وفا کی چھاؤں میں ٹھہرو نہ دن ڈھلے
کوئی کسی کا کب ہے سدا کان نہ دھرو