Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظم

    یہ آنکھیں

    یہ آنکھیں ہر در و دیوار میں آنکھیں یہ آنکھیں ریستورانوں میں ایوانوں میں کلبوں میں ترے گھر کی اندھیری کوٹھری میں جسم میں روحوں میں سانسوں میں کلیسا کے دھواں دیتے ہوئے ہر طاق میں آنکھیں یہ آنکھیں منبر و محراب میں آنکھیں یہ آنکھیں جاگتے میں خواب میں آنکھیں یہ آنکھیں غول کی صورت ...

    مزید پڑھیے

    برف باری میں

    جہاں لکڑی کی میزوں اور ننگی کرسیوں میں شہ بلوطی گردنوں کا خم نظر آئے وہاں جھکنا عبادت ہے میں ننگے پاؤں باہر آ گیا تھا برف باری میں مری کھڑکی کے نیچے چاندنی سے بھی زیادہ چاندنی تھی جب ہوا پاگل ہوئی اور تم نے چہرہ موڑ کر سونے کی کوشش کی ہوا سنتی نہیں ہے ہوا جب بھی چلے گی کھڑکیوں پر ...

    مزید پڑھیے

    جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

    جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو جب گھروں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں اپنے گھر جائیں گی اپنے رستے کی ہو جائیں گی اور تہمینۂ بے خبر ہر گلی کی خبر ہر گلی اک نئے گھر پہ جا کر اچٹ جائے گی اے میری روح کے بادباں دکھ کھلے پانیوں کا سفر عمر بھر جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو جیوتشی روز ہر روز سورج کھلے ...

    مزید پڑھیے

    صلیب گر پڑی

    صلیب گر پڑی مہندس نے درمیان شہر بر نشیب جو بنائی تھی صلیب گر پڑی ہجوم منتظر تھا شام سے کہ ایک سیاہ فام سے جوان ناتمام سے خبر ملی تمام رات کی تھکی ہوئی بدن کے بوجھ سے جھکی ہوئی نشیب سے اڑی ہوئی کھڑی تھی جو غریب گر پڑی ہجوم منتظر تھا شام سے نشیب پر کسی طرح قدم جمائے اک ہجوم منتظر تھا ...

    مزید پڑھیے

    اور پھر چاند نکلتا ہے

    اور پھر چاند نکلتا ہے اور پھر سارا شہر سمٹ کر تیرے گھر کا آنگن بن جاتا ہے اور شام سے پہلے سو جانے والے بچے جاگ اٹھتے ہیں اور میں تیرے ساتھ نہ جانے کس کس گھر میں جاتا ہوں کن کن لوگوں سے ملتا ہوں اور تو ساتھ نہیں ہوتا ہے اور میں تنہا ہی رہتا ہوں اور یوں پچھلی رات کا پیلا چاند مری ...

    مزید پڑھیے

    مانسٹر

    دریچہ کھلا چھوڑ کر یوں نہ جانا کہ رستہ گزرتی کوئی اور لڑکی مجھے خواب بنتا ہوا دیکھ لے گی ٹھٹک جائے گی اور مجھ سے مرے خواب کا راستہ پوچھنے کی حماقت کرے گی

    مزید پڑھیے

    بند گھر کا راز

    تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انہیں بند کر کے گئے اب یہ تم سے بھی کھل کر نہیں پوچھتیں تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انہیں بند کر کے گئے ایک ہی راز رہتا ہے ہر بند گھر میں کہ گھر بند رہتا نہیں

    مزید پڑھیے

    یہ گھر جل کر گرے گا

    یہ گھر جل کر گرے گا تم نے لو دھیمی نہیں کی ہجرتی گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں چلو دو چار دن رہ لو کسی کے آنے جانے تک جہاں تک معصیت ہے ارتقا کا در کھلا ہے یہ گھر جل کر گرے گا ان پرندوں سے کہو دہلیز سے آگے نکل جائیں خداۓ خشک و تر کی سلطنت اک گھر نہیں ہے اور موسم ہیں حوادث ...

    مزید پڑھیے

    وہ آنکھیں کنول بنیں

    وہ آنکھیں کنول بنیں اور خشک ہوئیں اور کنول بنیں اور خشک ہوئیں کوئی دیکھنے آیا آنکھیں آن کی آن میں کنول بنیں اور خشک ہوئیں اور دلدل پھیلا سمٹ گیا اور رات کی چادر پھیل گئی کوئی دیکھنے آیا آن کی آن میں دلدل پھیلا سمٹ گیا اب ہاتھی دانت کے رسیا آئیں تو آئیں تم گھر کی میلی چادر لے کر ...

    مزید پڑھیے

    اسیری

    دن بادل ہے اپنی رو میں چلتا ہے رات آنگن ہے اپنے اندر کھلتی ہے جس آن تم اس مٹی پر یا مٹی میں آئے تھے وہ دن تھا رات تھی یا دن رات سے ملنے کی ایک ازلی ابدی کوشش تھی یا سورج چاند گہن تھا یا پکی پوری بارش تھی دن بادل بارش رات گہن اک گھر اور ایک اسیر اب رات کے خواب سے مت ڈرنا اور دن کے غم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5