Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کے تمام مواد

44 نظم (Nazm)

    یہ اک دوہری اذیت ہے

    یہ اک دوہری اذیت ہے اذیت بے سبب ہنسنے کی بے آرام راتوں کی کہانی شب‌ زدوں کے سامنے ہنس ہنس کے کہنے کی خداوند خدا کی مہربانی ہے دعائیں آپ کی ہیں آپ کی سرکار میں زندہ ہوں خوش ہوں بطور ناصحاں ملتا ہے کوئی برنگ مہرباں ملتا ہے کوئی بہ سعی رائے گاں ملتا ہے کوئی وہ کم آگاہ کم احساس کم ...

    مزید پڑھیے

    ریت آئینہ ہے

    قیس آسودۂ نقش رقص رواں حیرت چشم پارینہ ہے ریت آئینہ ہے اور زنگار آئینہ ہر عالم‌ چوب و ابریشم و خاکداں ریت آئینہ ہے جب مناروں میں گھنٹی بجی وہ اچانک مڑی کل یہاں کوئی تھا وہ گجر دم اٹھی اس نے انگڑائی لی کل یہاں کوئی تھا سانپ لہراتی سڑکوں پہ چلتے ہوئے وہ رکی کل یہاں کوئی تھا کل ...

    مزید پڑھیے

    اس چھالیا کے پیڑ کے نیچے

    اس چھالیا کے پیڑ کے نیچے خدا گواہ مجھ پر نزول رحمت و اجلال حق ہوا اور یوں ہوا کہ مجھ پہ زمیں کھول دی گئی اور آسمان سر پہ مسلط نہیں رہا اور یہ کہا گیا کہ جو گھر لوٹیے تو پھر ہاتھوں میں دھوپ لے کے منڈیروں پہ ڈالیے مٹی اگائیے کہ زمیں شورہ پشت ہے اور یہ کہ میش و ابلق و اشتر کے واسطے دو ...

    مزید پڑھیے

    مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں

    یہاں سے دو کنیزیں جا رہی تھیں راستے میں خود سے آسودہ ہوئیں اور سو گئیں ساون کے میلے میں مسلسل چلتے رہنے کی خوشی آسودہ کرتی ہے مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں لیٹ جاتی ہے محبت گھاس میں پتھر کی سل پر یادگاری سیڑھیوں کے بیچ گیلے موسموں میں پاؤں میں آتی ہوئی ان سیڑھیوں کے ساتھ جن پر لوگ ...

    مزید پڑھیے

    یہ شہر تمام اندوہ میں ہے

    یہ شہر تمام اندوہ میں ہے اس رات سپاہی گشت پر آیا نہیں تم گھر جا سکتی ہو اور شہر کے باہر جتنے شہر ہیں سب کے سب اندوہ میں ہیں کل ہفتے کی تعطیل کا پہلا دن ہوگا وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ہے اک تیز ہنسی جو سات گھروں کو چیر گئی وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ...

    مزید پڑھیے

تمام