Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظم

    ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے

    ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے شاخ صنوبر چاند کی آس میں جاگتی ہے اور دن بھر سونے والے گھر کی دہلیزوں پر آ کر بیٹھتے ہیں اور خواہش و خواب کے اندیشوں میں رات سمٹتے پیراہن کی لذت بن کر روزن در سے جھانکتی ہے بچے ماؤں کی گردن میں بانہیں ڈالے سوتے ہیں خواب ہماری مائیں ہیں خواب ہماری مائیں ...

    مزید پڑھیے

    زباں پر ذائقہ دو پانیوں کا ہے

    زباں پر ذائقہ دو پانیوں کا ہے سمندر درمیاں ہوتا تو اس سے پوچھتے کس سمت جائے گا مسافر کل خنک پانی کے بجرے پر نمک کی گرم لہروں میں اکیلا جانے والا جس طرف بھی جائے گا تنہا نہیں ہوگا محبت پانیوں پر کھیلتی ہوگی سو یہ جل مکڑیوں کی جعل سازی تھی کہ ساحل سے الجھ کر لوگ لہروں میں اترتے اور ...

    مزید پڑھیے

    اپنے نام ایک نظم

    اسے دکھ کے ساتھ بیاہا گیا کہ جب آنکھ کھلی تو سر پر سورج جلتی ناند میں دھول اسے دھوپ کے ساتھ بیاہا گیا کہ جو شام پڑے سے دن گزرے تک سوتی تھی اسے نیند کے ساتھ بیاہا گیا کہ جو آج کے خواب سے کل کے خواب کا سودا کرتی تھی اسے بیاہ کے ساتھ بیاہا گیا کہ جو کشٹ اٹھاتی دھوپ میں بیٹھی سائے سے ...

    مزید پڑھیے

    یخ زدہ انگلیاں

    یخ زدہ انگلیاں تہ بہ تہ برف کی چادروں سے ابھرتی ہوئی برف اس سال اتنی پڑی ہے کہ رستے کے سب پیچ و خم چھپ گئے ہیں اور لڑکیاں دور پر نور لانبے دریچوں سے جب برف میں یخ زدہ انگلیاں دیکھتی ہیں تو یہ پوچھتی ہیں کہ اس برف سے پھول کیسے کھلا کونپلیں کیسے پھوٹیں زمیں بانجھ تھی کس طرح یک بیک ...

    مزید پڑھیے

    وہ اپنے ہاتھ میں دنیا کی تہذیبیں اٹھائے آئے گی

    وہ اپنے ہاتھ میں دنیا کی تہذیبیں اٹھائے آئے گی اور گر پڑے گی میں نقشے کی مدد سے اس کے گرنے کی خبر دوں گا سمندر بے بضاعت ہے اگل دیتا ہے نیلی کشتیوں کو آسماں کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے جہازوں کو ستارے دیکھ کر چلتے نہیں مٹی اڑا لے جائے گی ان کو سو یہ وہ ساعتیں ہیں جب نہیں چلتے ...

    مزید پڑھیے

    زندگی

    اور طوفان کے بعد اکھڑے گرے پیڑوں بھیگے تنوں صبح کی مرگھلی دھوپ میں سوکھتے سبز پتوں کی بو میں میں تنہا چلا جا رہا ہوں میرے چاروں طرف ٹنکی اونچی چھتیں ہیں پتنگوں کی مانند بکھری ہوئی اور لکڑی کی شہتیریں جیسے پتنگوں کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ اور بجلی کی تاریں کہ جیسے پتنگوں کی الجھی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    اور پانی ٹھہر گیا

    اور پانی ٹھہر گیا آنکھوں میں چہرہ سیاہ ہوا اور آنکھیں پھیل گئیں اور آنکھیں پھیل گئیں آنکھوں میں ہونا گناہ ہوا اس دن سارے لکھنے والے گھر آئے اور لوٹ گئے اور سب کی آنکھیں ٹھہر گئیں اور سب کا چہرہ پھیل گیا ماہی گیروں نے اس دن بے اندازہ جال بنے اور بچے بھوکے ہی سوئے اور مائیں بستر ...

    مزید پڑھیے

    یہ اچھے لوگ ہیں

    یہ اچھے لوگ ہیں ان سے نہ ملنا اور ملنا بھی تو ان کی آستینیں دیکھ لینا یہ اچھے لوگ ہیں اور بے شکن شائستگی ان کا مقدر ہے یہ اچھے لوگ ہیں اور بے صدا شوریدگی ان کا مقدر ہے لپکتے پانیوں کی آخری آسودگی ان کا مقدر ہے یہ اچھے لوگ ہیں جب شام ہوتی ہے تو بے آواز گلیوں کے سہارے کنج گویائی میں ...

    مزید پڑھیے

    شہر میں

    بانس کی کونپلوں کی طرح رات کی رات بڑھتی ہوئی لڑکیو آئنے کے ہر اک زاویے سے الجھتی ہوئی لڑکیو طشت سیماب جھلکاتی جھکتی ہوئی لڑکیو نت نئے موسموں کی طرح مجھ پہ بیتی ہوئی لڑکیو میرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیں خواب در خواب بس ایک ہی خواب ہے میرے ہونے کا خواب بھاگتے راستوں میں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    بات نہیں ہو سکتی

    وہ جو کہتے ہیں کسی ٹیڑھ بنا کوئی بات نہیں ہو سکتی سو آن کی آن میں ڈور پلٹ کر ماہی گیر پہ آن پڑی انہی موسم میں کوئی تم سا دریا پار سے آیا تھا اور ساری بستی روئی تھی اس دن بستی میں رونے والوں کا دن تھا اور تم نے کہا تھا یہ لوگ سمندر متھ کر پیتے تھے اب روتے ہیں اور تم نے کہا تھا ان لوگوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5