مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں
مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور کے پاؤں کی مٹی ہے دروازہ کھلا اور ماہ زوال در آیا بند مکاں کے روزن در سے آگے سات دلہن کی قبر ہے نیچے کوزہ گروں کی بستی ہے کوزہ گروں کی بستی میں مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں بڑے قصے ہیں بڑے قصے ہیں دل صبر و سوال کے سننے کے بڑی باتیں سیف و کتاب پہ لکھنے ...