Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظم

    مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں

    مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور کے پاؤں کی مٹی ہے دروازہ کھلا اور ماہ زوال در آیا بند مکاں کے روزن در سے آگے سات دلہن کی قبر ہے نیچے کوزہ گروں کی بستی ہے کوزہ گروں کی بستی میں مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں بڑے قصے ہیں بڑے قصے ہیں دل صبر و سوال کے سننے کے بڑی باتیں سیف و کتاب پہ لکھنے ...

    مزید پڑھیے

    جی ڈرتا ہے

    جی ڈرتا ہے بے غرض محبت کرنے والے اچھی نسل کے دوستوں سے انہیں دریا بیچ جواب ملا یہ کشتی چھ شہتیروں اور دس کیلوں سے یہیں دریا بیچ بنائی تھی سو اس میں آگ لگی جی ڈرتا ہے تمہیں لوٹ کے آنا اچھا لگا مجھے چھت کی بیلیں ہری ملیں انہیں دھوپ نہ دینا جاڑوں میں یہ بستر میرے گھر کے نہیں تمہیں ...

    مزید پڑھیے

    جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    یہ مصدر اسم ماضی کا نہیں ہے آپ کہیے تو بتا دیتے ہیں ہونے کو جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا وہ تم سے ابن ملجم کا پتا پوچھیں تو کہنا چار ہفتوں سے بہت مصروف ہے روٹی نہیں کھائی سروں کی فصل بار خشک سالی سے گراں ہے لوگ مسجد بھی نہیں جاتے میں اس کو مسجد ...

    مزید پڑھیے

    ابن زیاد کا فرمان

    تمہاری ہڈیاں مڑتی نہیں ہیں رحم مادر سے نکلنے کے لیے بیتاب ہو سوتے رہو یہ گھر گرہستی کا زمانہ ہے مویشی اصطبل میں جائیں گے اور اونٹ خیمے میں فرس ابن زیادہ کے لیے عضو زیادہ ہے سواری واسطے مشکی ہرن زنجیر کرتے ہیں زمین شور سے شوریدہ سر عفریت سے بونے سمندر سے گلابی مچھلیاں مٹی سے سورج ...

    مزید پڑھیے

    خانہ بدوشوں کا گیت

    اب کس لیے جہان خرابی میں گھومنا وہ سو گئی تو اس نے نہ دیکھا کہ اس کے بعد کتنی بڑی قطار کھلے زاویوں کی تھی وقت آ گیا تھا وصل و مکافات وصل کا اونچی زمیں پہ ریل کی کھڑکی کے ساتھ ساتھ غاروں میں بستروں میں زمیں پر رضائی میں اب کس لیے جہان خرابی میں لوٹنا سو آشیاں کو مثل کبوتر ...

    مزید پڑھیے

    اس سے کہہ دو

    اس سے کہہ دو کہ وہ اپنے دکھتے ہوئے بازوؤں کو یوں ہی تہ رکھے راہداری کے پرلے سرے پر وہ کس سے ملے گی کوئی خواب راتوں کی بوجھل ہوا میں کسی پر سمیٹے پرندے کا خواب کوئی خواب بیمار بستر پہ بجھتے سمے رات کے نرم پاؤں گزرنے کا خواب بند کمرے میں دوپہر بھر صرف اک زیر جامہ میں سونے کا خواب یا ...

    مزید پڑھیے

    سمندر کی مہربانی

    یہ سمندر کی مہربانی تھی تم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا اب ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی موج در موج لوٹتے ہو تم دھوپ میں اختلاط کرتے ہو اور ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی کوئی بھی تم سے کچھ نہیں کہتا سب سمندر کی مہربانی ہے جاؤ بارش کا اہتمام کرو ابر آوارہ سے پتنگ بناؤ اب تمہارے ہیں خیمہ و ...

    مزید پڑھیے

    اگر تم دو قدم اوپر گئے

    اگر تم دو قدم اوپر گئے بادل کو چھو لو گے کہیں بارش میں برسو گے کسی پتھر پہ روندے جاؤ گے چھت سے گروگے چھتریوں پر سوکھ جاؤ گے نکالیں گی تمہیں گھر والیاں گھر سے اٹھا کر ڈال دیں گی دھوپ میں ان گدڑیوں کے ساتھ جن کو چھوڑ کر تم دو قدم اوپر گئے تھے ایک دن جب حبس تھا اور لوگ باہر سو رہے تھے

    مزید پڑھیے

    بے ارادہ زیست کیجے

    اکیلا پن پرندے کا پرندے کا اکیلا پن سماعت گاہ ویرانی میں بلبل بولتی ہے اکیلا پن گڈریے کا کسی سادہ گڈریے کا اکیلا پن وہ اس شب بھیڑیوں کے درمیاں تنہا نہیں ہوگا اکیلا پن مسافر کا کسی بھولے مسافر کا اکیلا پن مسافر قوت پرواز سے مجبور ہے آگے نکل جاتا ہے ساحل پر پرندے گھاس پر ٹوٹے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    خرابی ہے محبت میں

    خرابی ہے محبت میں محبت میں خرابی ہے یہ قبریں پانیوں میں گھل رہی ہیں سو ان کے استخواں دیکھو میں مجنوں کو لڑکپن میں بہت رویا بہت رویا میں مجنوں کو لڑکپن میں کہ پانی مٹیوں سے پھوٹتا تھا اور مٹی گھل رہی تھی پانیوں میں سو اس کے استخواں دیکھو محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی اس کے گھر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5