یہ کیسے لوگ ہیں
یہ کیسے لوگ ہیں جو سنگ بستہ جالیوں کی طرح آنکھیں بند رکھتے ہیں سرہانے لڑکیوں کے رات کی بکھری کتابیں ہیں اور ان کے خواب اندھیروں کے درکتے روزنوں سے دھڑدھڑاتی بلیوں کی طرح گھر گھر پھیل جاتے ہیں میں ساری رات آوازوں کا مبہم شور سنتا ہوں اور آنکھیں بند رکھتا ہوں اور ان کے ساتھ ہو ...