Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظم

    یہ کیسے لوگ ہیں

    یہ کیسے لوگ ہیں جو سنگ بستہ جالیوں کی طرح آنکھیں بند رکھتے ہیں سرہانے لڑکیوں کے رات کی بکھری کتابیں ہیں اور ان کے خواب اندھیروں کے درکتے روزنوں سے دھڑدھڑاتی بلیوں کی طرح گھر گھر پھیل جاتے ہیں میں ساری رات آوازوں کا مبہم شور سنتا ہوں اور آنکھیں بند رکھتا ہوں اور ان کے ساتھ ہو ...

    مزید پڑھیے

    ایک اتفاقی موت کی روداد

    سراسر اتفاقی موت تھی اس نے کہا تھا مجھ کو جانا ہے سو وہ ایسے گیا جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے سراسر اتفاقاً پاؤں چلنے کے لیے ہوتے ہیں اتنا تو سبھی تسلیم کرتے ہیں تو ایسے میں اگر مٹی کی عریانی شکایت گر بھی ہو جائے تو اس پر اور مٹی ڈال دیتے ہیں سو ہم نے ڈال دی مٹی پہ مٹی اتفاقاً یہ تو ...

    مزید پڑھیے

    فنا کے لیے ایک نظم

    مہربانی رات کا پہلا پہر ہے صبح زنداں کی ہلاکت شام وحشت گر کی موت واجب التعظیم ہے وہ شخص جو پہلے مرا خشت سے کوزہ غنیمت کوزۂ وحشت سے وحشت گر کی خاک خاک سے آب نمک بارشوں میں میں نمک کا گھر بناؤں برف باری میں پرانے بانس کا طشت میں سیندور چھدے سکے سجا کر بیچ رستے پر رکھوں رات کے کہرے ...

    مزید پڑھیے

    آسماں خاکداں

    راکھ اڑاتی ہوئی اور بن خاکداں کوئی جلتا نہیں اس ستارے کے اس پار بھی کوئی جلتا تو ہوگا کسی آسماں کے تلے خواب نے راستوں پر دیے رکھ دیے میں نے ہر شام دیکھا کہ تم آئے تھے اور مل کر گئے اور ہر شام اک تار کفش و کلہ جل گیا ایک جلتا ہوا سلسلہ جل گیا ہاں مگر اک دیا سا اٹھائے رکھو تار کفش و ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5