Mohammad Anvar Khalid

محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظم

    یہ اک دوہری اذیت ہے

    یہ اک دوہری اذیت ہے اذیت بے سبب ہنسنے کی بے آرام راتوں کی کہانی شب‌ زدوں کے سامنے ہنس ہنس کے کہنے کی خداوند خدا کی مہربانی ہے دعائیں آپ کی ہیں آپ کی سرکار میں زندہ ہوں خوش ہوں بطور ناصحاں ملتا ہے کوئی برنگ مہرباں ملتا ہے کوئی بہ سعی رائے گاں ملتا ہے کوئی وہ کم آگاہ کم احساس کم ...

    مزید پڑھیے

    ریت آئینہ ہے

    قیس آسودۂ نقش رقص رواں حیرت چشم پارینہ ہے ریت آئینہ ہے اور زنگار آئینہ ہر عالم‌ چوب و ابریشم و خاکداں ریت آئینہ ہے جب مناروں میں گھنٹی بجی وہ اچانک مڑی کل یہاں کوئی تھا وہ گجر دم اٹھی اس نے انگڑائی لی کل یہاں کوئی تھا سانپ لہراتی سڑکوں پہ چلتے ہوئے وہ رکی کل یہاں کوئی تھا کل ...

    مزید پڑھیے

    اس چھالیا کے پیڑ کے نیچے

    اس چھالیا کے پیڑ کے نیچے خدا گواہ مجھ پر نزول رحمت و اجلال حق ہوا اور یوں ہوا کہ مجھ پہ زمیں کھول دی گئی اور آسمان سر پہ مسلط نہیں رہا اور یہ کہا گیا کہ جو گھر لوٹیے تو پھر ہاتھوں میں دھوپ لے کے منڈیروں پہ ڈالیے مٹی اگائیے کہ زمیں شورہ پشت ہے اور یہ کہ میش و ابلق و اشتر کے واسطے دو ...

    مزید پڑھیے

    مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں

    یہاں سے دو کنیزیں جا رہی تھیں راستے میں خود سے آسودہ ہوئیں اور سو گئیں ساون کے میلے میں مسلسل چلتے رہنے کی خوشی آسودہ کرتی ہے مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں لیٹ جاتی ہے محبت گھاس میں پتھر کی سل پر یادگاری سیڑھیوں کے بیچ گیلے موسموں میں پاؤں میں آتی ہوئی ان سیڑھیوں کے ساتھ جن پر لوگ ...

    مزید پڑھیے

    یہ شہر تمام اندوہ میں ہے

    یہ شہر تمام اندوہ میں ہے اس رات سپاہی گشت پر آیا نہیں تم گھر جا سکتی ہو اور شہر کے باہر جتنے شہر ہیں سب کے سب اندوہ میں ہیں کل ہفتے کی تعطیل کا پہلا دن ہوگا وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ہے اک تیز ہنسی جو سات گھروں کو چیر گئی وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ...

    مزید پڑھیے

    بہت شور ہے

    بہت شور ہے ماتحت لڑکیاں میرے زانو پہ سجدہ کریں خوف آلودگی شور و شر کی پذیرائی میں رو پڑے یہ زمینیں سیہ نسل گھوڑوں کی آواز سے جاگتی ہیں چشم شب کور ہر چاندنی رات میں ایک جلسہ کرے گی زمیں فیل بے زور کی طرح پٹتی رہی ہے انہی ساعتوں میں بشرط سکندر کوئی آئنے کے برابر ملے گا وہ ہنستی ہے ...

    مزید پڑھیے

    تھے گفٹ آف میگی

    میں نے اپنے لمبے بال تمہاری خاطر بیچ دیے ہیں اور اب گھر گھر جانے والے میرے گھر بھی آئیں گے اور میں تیری خاطر اجلے دن کی خاطر رکھے جانے والے تحفے کس کس کو تقسیم کروں گی اور تم کس کے واسطے صندل صندل گھومو گے تم بھی شاید اپنی آخری خواہش بیچ چکے ہو ورنہ گھر مت آنا

    مزید پڑھیے

    دریائے‌ چارلس کے کنارے ایک نظم

    یہ گرجا ہے کہ مجھ پر آسماں کی مہربانی ہے صلیبی جنگ میں سارے سپاہی کام آئے اب کسے پانی پلاؤ گی تم اپنے دامن تر سے اٹھاؤ‌ گی کسے پھیلے ہوئے بازو پہ نیلے ناخنوں پر روک لو گی آنکھ چہرہ جب زمیں پر راکھ ہوگی اور مٹی پھیل جائے گی طنابیں راکھ ہو جائیں تو مٹی پھیل جاتی ہے زمینوں آسمانوں ...

    مزید پڑھیے

    ساعت آغاز کی بے معنویت

    ساری بے معنویت ساعت آغاز میں تھی جب ہوا گرم ہوئی سائبانی کے لیے دھوپ میں ایک پتھر تھا سفر آغاز کیا رات اعصاب شکن لائی تھی بستر پہ اسے وہ بھی دیوار بنا جس پہ گری تھی دیوار کوئی دم بیٹھ لیے پھر سفر آغاز کیا دل نے چاہا تھا کہ رو لیں مگر اب کیا رونا دوڑ کی آخری حد پر بھی کوئی روتا ...

    مزید پڑھیے

    ہجوم

    یہ ہجوم صورت آسمان سیاہ میرے عقب میں ہے میں بڑے بلند شجر کا پھل بڑے فاصلے کا شکار غمزۂ راز دار کہا گیا کہ زمین اک کف جو پہاڑ موج نسیم گیسوۓ خلوتی سو زمین سایۂ تیرگی کی مثال میرے عقب میں ہے مجھے نیند سے جو اٹھا کے جرعۂ آب دے جو پس غبار چہار سمت سے آ کے میرا ہلاک ہو جو دم شگفت گل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5