Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی غزل

    کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

    کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے دن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن یوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے روز کے دیکھے ہوئے منظر تھے پھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھا سارے دروازے گلے لگتے تھے رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاں لوگ پہچانے ہوئے لگتے ...

    مزید پڑھیے

    ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے

    ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے فضا کا رنگ نیلا ہو گیا ہے ابھی دو چار ہی بوندیں گریں ہیں مگر موسم نشیلا ہو گیا ہے کریں کیا دل اسی کو مانگتا ہے یہ سالا بھی ہٹیلا ہو گیا ہے خبر کیا تھی کہ نیکی بانجھ ہوگی بدی کا تو قبیلہ ہو گیا ہے خدا رکھے جوانی آ گئی ہے گنہ بانکا سجیلا ہو گیا ہے نہ ...

    مزید پڑھیے

    اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی

    اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو کم کم تھی محبت اس کی

    یوں تو کم کم تھی محبت اس کی کم نہ تھی پھر بھی رفاقت اس کی سارے دکھ بھول کے ہنس لیتا تھا یہ بھی تھی ایک کرامت اس کی الجھنیں اور بھی تھیں اس کے لیے ایک میں بھی تھا مصیبت اس کی پہلے بھی پینے کو جی کرتا تھا مل ہی جاتی تھی اجازت اس کی خواب میں جیسے چلا کرتا ہوں دیکھتا رہتا ہوں صورت اس ...

    مزید پڑھیے

    دوا کوئی کیا کام لکھوں

    دوا کوئی کیا کام لکھوں نسخے میں آرام لکھوں سورج کو مرتے دیکھوں وقت برابر شام لکھوں دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں دھندہ کروں نمازوں کا پیشانی پر دام لکھوں آسمان پر جا پہنچوں اللہ تیرا نام لکھوں علویؔ آپ کے کھاتے میں آج کی شب کے جام لکھوں

    مزید پڑھیے

    تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا

    تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا اور کے دن مرا ہم زاد جدائی دے گا وہ نہ آئے گا مگر دل یہ کہے جاتا ہے اس کے آنے کا ابھی شور سنائی دے گا دل کا آئینہ ہوا جاتا ہے دھندلا دھندلا کب ترا عکس اسے اپنی صفائی دے گا خوش تھا میں چہرے پہ آنکھوں کو سجا کر لیکن کیا خبر تھی مجھے کچھ بھی نہ ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ نے گزارش کی

    دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور وہ بھی بخشش کی لطف آ گیا علویؔ واہ خوب کوشش کی

    مزید پڑھیے

    اور بازار سے کیا لے جاؤں

    اور بازار سے کیا لے جاؤں پہلی بارش کا مزا لے جاؤں کچھ تو سوغات دوں گھر والوں کو رات آنکھوں میں سجا لے جاؤں گھر میں ساماں تو ہو دلچسپی کا حادثہ کوئی اٹھا لے جاؤں اک دیا دیر سے جلتا ہوگا ساتھ تھوڑی سی ہوا لے جاؤں کیوں بھٹکتا ہوں غلط راہوں میں خواب میں اس کا پتہ لے جاؤں روز کہتا ...

    مزید پڑھیے

    سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں

    سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں ڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تک کون پھرتا ہے کھلے سر رات میں چاندنی پی کر بہک جاتی ہے رات چاند بن جاتا ہے ساغر رات میں چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیں جھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی بتیاں جلتی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

    میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں دکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئے پھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤں ہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائے قلم اٹھاؤں تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5