کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے
کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے دن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن یوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے روز کے دیکھے ہوئے منظر تھے پھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھا سارے دروازے گلے لگتے تھے رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاں لوگ پہچانے ہوئے لگتے ...