Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی غزل

    آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

    آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں اک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں مرنا ...

    مزید پڑھیے

    ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں

    ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں مگر پہچاننے والے کہاں ہیں کہیں پر سلسلہ ہے کوٹھیوں کا کہیں گرتے کھنڈر ہیں نالیاں ہیں کہیں ہنستی چمکتی صورتیں ہیں کہیں مٹتی ہوئی پرچھائیاں ہیں کہیں آواز کے پردے پڑے ہیں کہیں چپ میں کئی سرگوشیاں ہیں قطب صاحب کھڑے ہیں سر جھکائے قلعے پر گدھ بہت ...

    مزید پڑھیے

    سردی میں دن سرد ملا

    سردی میں دن سرد ملا ہر موسم بے درد ملا اونچے لمبے پیڑوں کا پتہ پتہ زرد ملا سوچتے ہیں کیوں زندہ ہیں اچھا یہ سر درد ملا ہم روئے تو بات بھی تھی کیوں روتا ہر فرد ملا ملا ہمیں بس ایک خدا اور وہ بھی بے درد ملا علویؔ خواہش بھی تھی بانجھ جذبہ بھی نا مرد ملا

    مزید پڑھیے

    دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

    دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں میں رہ کے کس لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو دشمنوں سے ...

    مزید پڑھیے

    آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

    آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا چاند کی سیر کرتا ہوا میں ہی تھا سر اٹھائے کھڑا تھا پہاڑوں پہ میں پتی پتی بکھرتا ہوا میں ہی تھا میں ہی تھا اس طرف زخم کھایا ہوا اس طرف وار کرتا ہوا میں ہی تھا جاگ اٹھا تھا صبح موت کی نیند سے رات آئی تو مرتا ہوا میں ہی تھا میں ہی تھا منزلوں پہ پڑا ...

    مزید پڑھیے

    شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں

    شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں میں آنکھیں بند کر کے گھر کے اندر دیکھ لیتا ہوں ادھر اس پار کیا ہے یہ کبھی سوچا نہیں میں نے مگر میں روز کھڑکی سے سمندر دیکھ لیتا ہوں سڑک پہ چلتے پھرتے دوڑتے لوگوں سے اکتا کر کسی چھت پر مزے میں بیٹھے بندر دیکھ لیتا ہوں یہ سچ ہے اپنی قسمت ...

    مزید پڑھیے

    رات پڑے گھر جانا ہے

    رات پڑے گھر جانا ہے صبح تلک مر جانا ہے جاگ کے پچھتانا ہے بہت سوتے میں ڈر جانا ہے جانے سے پہلے ہم نے شور بہت کر جانا ہے سارے خون خرابے کو آنکھوں میں بھر جانا ہے اندھوں نے بلوایا ہے بھیس بدل کر جانا ہے چھ نظمیں جرمانہ تھا ایک غزل ہرجانہ ہے لڑکی اچھی ہے علویؔ نام اس کا مرجانہ ...

    مزید پڑھیے

    لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے

    لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے مجھے میری پہلی خوشی بھیج دے اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے میں پیاسا ہوں خالی کنواں ہے تو کیا صراحی لیے اک پری بھیج دے بہت نیک بندے ہیں اب بھی ترے کسی پر تو یارب وحی بھیج دے کہیں کھو نہ جائے قیامت کا دن یہ اچھا سمے ہے ...

    مزید پڑھیے

    کیا کہتے کیا جی میں تھا

    کیا کہتے کیا جی میں تھا شور بہت بستی میں تھا پہلی بوند گری ٹپ سے پھر سب کچھ پانی میں تھا چھتیں گریں گھر بیٹھ گئے زور ایسا آندھی میں تھا موجیں ساحل پھاند گئیں دریا گلی گلی میں تھا میری لاش نہیں ہے یہ کیا اتنا بھاری میں تھا آخر طوفاں گزر گیا دیکھا تو باقی میں تھا چھوڑ گیا مجھ ...

    مزید پڑھیے

    زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے

    زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے سمندروں میں اتر گئی ہے خموشیوں میں صدا گجر کی خیال کے پر کتر گئی ہے کھڑے ہیں بے برگ سر جھکائے ہوا درختوں کو چر گئی ہے ہمیں تو نیند آئے گی نہ لیکن یہ رات بھی تو ٹھہر گئی ہے کہاں بھٹکتے پھرو گے علویؔ سڑک سے پوچھو کدھر گئی ہے

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5