Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی غزل

    نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں

    نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں ہم ستاروں کو دعا دیتے ہیں روز اچھے نہیں لگتے آنسو خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں اب کے ہم جان لڑا بیٹھیں گے دیکھیں اب کون سزا دیتے ہیں ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں یاد آئیں تو رلا دیتے ہیں دی ہے خیرات اسی در سے کبھی اب اسی در پہ صدا دیتے ہیں آگ اپنے ہی ...

    مزید پڑھیے

    اب کے برسات میں پانی آئے

    اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علویؔ کیا ہمیں بات بنانی آئے

    مزید پڑھیے

    سچ کہاں کہتا ہے جانے والا

    سچ کہاں کہتا ہے جانے والا خوب پچھتائے گا آنے والا رات اور دن کا تسلسل کیا ہے ایک چکر ہے تھکانے والا مطمئن ہے وہ بنا کر دنیا کون ہوتا ہوں میں ڈھانے والا صبح سے کھود رہا ہوں گھر کو خواب دیکھا ہے خزانے والا تھک گیا تھا تو ذرا رک جاتا میری تصویر بنانے والا دل میں اس درجہ خموشی ...

    مزید پڑھیے

    دن میں پریاں کیوں آتی ہیں

    دن میں پریاں کیوں آتی ہیں ایسی گھڑیاں کیوں آتی ہیں اپنا گھر آنے سے پہلے اتنی گلیاں کیوں آتی ہیں باہر کس کا ڈر لگتا ہے گھر میں چڑیاں کیوں آتی ہیں دن کیوں ننگے ہو جاتے ہیں راتیں عریاں کیوں آتی ہیں شعر میں الٹی سیدھی باتیں بول مری جاں کیوں آتی ہیں علویؔ قبروں تک جانے میں بھول ...

    مزید پڑھیے

    آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا

    آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا نقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھر باقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پر سورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیں خطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا دونوں کے دل میں ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے

    دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے تتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے سامنے دیوار پر کچھ داغ تھے غور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکار سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے اب کسی کی یاد بھی آتی نہیں دل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے آؤ علویؔ اب تو اپنے گھر چلیں دن بہت دلی میں ٹھہرے ہو ...

    مزید پڑھیے

    سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا

    سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا لیکن اسے ذلیل کیا یہ برا کیا گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیں کرسی نے اس کو دیکھ کے آغوش وا کیا گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیا پھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اتر پڑے بن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اڑا کیا اس سے ...

    مزید پڑھیے

    اچھے دن کب آئیں گے

    اچھے دن کب آئیں گے کیا یوں ہی مر جائیں گے اپنے آپ کو خوابوں سے کب تک ہم بہلائیں گے بمبئی میں ٹھہریں گے کہاں دلی میں کیا کھائیں گے کھلتے ہیں تو کھلنے دو پھول ابھی مرجھائیں گے کتنی اچھی لڑکی ہے برسوں بھول نہ پائیں گے موت نہ آئی تو علویؔ چھٹی میں گھر جائیں گے

    مزید پڑھیے

    ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں

    ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں تمہارا نام ہر اک پیڑ پر لکھوں گا میں ہر ایک پیڑ پہ چڑھ کے تمہیں پکاروں گا ہر ایک پیڑ کے نیچے تمہیں ملوں گا میں ہر ایک پیڑ کوئی داستاں سنائے گا سمجھ نہ پاؤں گا لیکن سنا کروں گا میں تمام رات بہاروں کے خواب دیکھوں گا گرے پڑے ہوئے پتوں پہ سو رہوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5