Mohammad Alvi

محمد علوی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the most prominent modern poets. Known for his style of layered simplicity. Recipient of Sahitya Academy award.

محمد علوی کی غزل

    اچانک تری یاد کا سلسلہ (ردیف .. ا)

    اچانک تری یاد کا سلسلہ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا ذرا جسم کو روشنی تو دکھا پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں عجب حال ہے آج کل شہر کا میں اس کے بدن کی مقدس کتاب نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا یہ کیا آپ پھر شعر کہنے ...

    مزید پڑھیے

    دکھ کا احساس نہ مارا جائے

    دکھ کا احساس نہ مارا جائے آج جی کھول کے ہارا جائے ان مکانوں میں کوئی بھوت بھی ہے رات کے وقت پکارا جائے سوچنے بیٹھیں تو اس دنیا میں ایک لمحہ نہ گزارا جائے ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی یہ بدن جس میں اتارا جائے ساتھ چلتا ہوا سایہ اپنا ایک پتھر اسے مارا جائے ہم یگانہ تو نہیں ہیں ...

    مزید پڑھیے

    برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر

    برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر نکلوں نہ کیوں مکان کی دیوار توڑ کر پانی تو اب ملے گا نہیں ریگزار میں موقع ہے خوب دیکھ لو دامن نچوڑ کر اب دوستوں سے کوئی شکایت نہیں رہی دن بھی چلا گیا مجھے جنگل میں چھوڑ کر تعمیر سے بلند ہے تخریب کا مقام اک سے ہزار ہو گیا آئینہ توڑ کر اپنے بدن ...

    مزید پڑھیے

    کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

    کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے اس کی تصویر ہٹا دی جائے ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر روشنائی بھی گرا دی جائے ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو بہتے پانی میں بہا دی جائے رات کو چپکے سے اک اک گھر کی کیوں نہ زنجیر لگا دی جائے نیند میں چونک ...

    مزید پڑھیے

    آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا

    آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا سامنے دشمن تھا پر دل میں کوئی ڈر نہ تھا اس سے بھی مل کر ہمیں مرنے کی حسرت رہی اس نے بھی جانے دیا وہ بھی ستم گر نہ تھا اک پہاڑی پہ میں بیٹھا رہا دیر تک شوق سے دیکھا کروں ایسا بھی منظر نہ تھا ہم سے جو آگے گئے کتنے مہربان تھے دور تلک راہ میں ...

    مزید پڑھیے

    گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

    گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں حنائی ہاتھ دروازے سے باہر اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے کسی کی سسکیاں ...

    مزید پڑھیے

    دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

    دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے اک سانس میں اک عمر کے ...

    مزید پڑھیے

    اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی

    اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی اس کے رہے ہو کے ہم جس سے محبت نہ تھی اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھا اپنے سوا آشنا ایک بھی صورت نہ تھی اس بھری دنیا سے وہ چل دیا چپکے سے یوں جیسے کسی کو بھی اب اس کی ضرورت نہ تھی اب تو کسی بات پر کچھ نہیں ہوتا ہمیں آج سے پہلے کبھی ایسی ...

    مزید پڑھیے

    کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

    کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں نکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میں کچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیں بکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے تو ان اونچے اونچے ...

    مزید پڑھیے

    گرہ میں رشوت کا مال رکھیے

    گرہ میں رشوت کا مال رکھیے ضرورتوں کو بحال رکھیے بچھائے رکھیے اندھیرا ہر سو ستارہ کوئی اچھال رکھیے ارے یہ دل اور اتنا خالی کوئی مصیبت ہی پال رکھیے جہاں کہ بس اک طلسم سا ہے نہ ٹوٹ جائے خیال رکھیے تڑا مڑا ہے مگر خدا ہے اسے تو صاحب سنبھال رکھیے تمام رنجش کو دل سے علویؔ وہ آ رہا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5