نقیب صبح تو تھے ہم رہین شام غم نکلے

نقیب صبح تو تھے ہم رہین شام غم نکلے
بڑے جھوٹے ترے وعدے ترے قول و قسم نکلے


انہیں دیر و حرم والے بھی کتنا پیار کرتے ہیں
تری محفل سے جتنے باغیٔ دیر و حرم نکلے


جو دیکھا تو زمیں بھی دور تھی پائے تجسس سے
جو سمجھا تو ستارے بھی مرے زیر قدم نکلے