حرم و دیر کے منظر نہیں دیکھے جاتے

حرم و دیر کے منظر نہیں دیکھے جاتے
دیکھنے والوں سے پتھر نہیں دیکھے جاتے


سرخ رو ہیں کہ ابھی پاؤں میں چھالے ہیں بہت
جہد والوں میں مقدر نہیں دیکھے جاتے


شوق درماں ہو تو آ روشنیٔ دل لے کر
زخم دل شمع جلا کر نہیں دیکھے جاتے


یہ تو انسانوں کے ٹوٹے ہوئے دل ہیں ساقی
ہم سے ٹوٹے ہوئے ساغر نہیں دیکھے جاتے


جاگ اٹھے ہیں تو کریں فکر سحر تا بہ سحر
پیار کے خواب مکرر نہیں دیکھے جاتے