اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا
اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا
مجھ میں کوئی رہ رہا تھا میں نہ تھا
میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کھلا
آئنے کا آئنہ تھا میں نہ تھا
میں تمہارا مسئلہ ہرگز نہ تھا
یہ تمہارا مسئلہ تھا میں نہ تھا
پھر کھلا میں دونوں کے مابین ہوں
اک ذرا سا فاصلہ تھا میں نہ تھا
ایک زینے پر قدم جیسے رکیں
تری رہ کا مرحلہ تھا میں نہ تھا
وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا میں نہ تھا
اونچی نیچی راہ محو رقص تھی
ڈگمگاتا راستہ تھا میں نہ تھا
تم نے جس سے سمت پوچھی دشت میں
وہ کوئی قبلہ نما تھا میں نہ تھا
یہ کہانی تھی مگر میری نہ تھی
وہ جو مرد ماجرا تھا میں نہ تھا
میں تو اپنی شاخ سے تھا متصل
پات جو وقف ہوا تھا میں نہ تھا
خود سے مل کر بجھ گیا تھا میں تو کل
دیپ جو شب بھر جلا تھا میں نہ تھا
میں نہ تھا کہتا تھا جو ہر بات پر
وہ تو کوئی دوسرا تھا میں نہ تھا
میں تو احمدؔ کب سے محو یاس ہوں
کل جو محفل میں ہنسا تھا میں نہ تھا