الگ تھلگ رہے کبھی کبھی سبھی کے ہو گئے
الگ تھلگ رہے کبھی کبھی سبھی کے ہو گئے
جنوں کا ہاتھ چھٹ گیا تو بے حسی کے ہو گئے
طلب کی آنچ کیا بجھی بدن ہی راکھ ہو گیا
ہوا کے ہاتھ کیا لگے گلی گلی کے ہو گئے
بہت دنوں بسی رہی تری مہک خیال میں
بہت دنوں تلک ترے خیال ہی کے ہو گئے
چراغ شام بجھ گیا تو دل کے داغ جل اٹھے
پھر ایسی روشنی ہوئی کہ روشنی کے ہو گئے
سخن وری نے ہجر کو بھی شام وصل کر دیا
تری طلب سوا ہوئی تو شاعری کے ہو گئے