گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر ہی نہیں
گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں
مہاجرت کے لئے شرط اب سفر بھی نہیں
اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے
یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں
مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا
وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں
وہ اک کتاب گئی تھی دلوں سے طاقوں پر
اب ایسی دور ہوئی ہے کہ طاق پر بھی نہیں
غم اور خوشی نہیں موقوف رونے ہنسنے پر
اور ان حوالوں سے اظہار معتبر بھی نہیں