خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں

خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں
کسی کو یار اس درجہ بھی تنہا چھوڑ دیتے ہیں


سمجھتے ہی نہیں ہیں لوگ نا سمجھی کی مشکل کو
سہولت دیکھتے ہیں اور سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں


یہ ہم بھی جانتے ہیں ملک گیری شوق ہے بیجا
مگر ہم جیت کر فوراً علاقہ چھوڑ دیتے ہیں


ترے دو گھونٹ پی کر تشنگی بھڑکی تو یہ جانا
وہی اچھے ہیں جو بالکل پیاسا چھوڑ دیتے ہیں


ہمارے دل میں اب طاقت نہیں صدمے اٹھانے کی
بہت بھانے لگے جو اس سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں


گزرتی ہیں جو فیل شب پہ سج دھج کر تری یادیں
ہم ان پر اپنے سگ ہائے تمنا چھوڑ دیتے ہیں


ہمارے منہ پہ اس نے آئنے سے دھوپ تک پھینکی
ابھی تک ہم سمجھ کر اس کو بچہ چھوڑ دیتے ہیں


تمہارا جیسے جی چاہے کوئی انجام لکھ لینا
چلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیں


ہمیشہ جان دیتے ہیں ادھر معشوق دنیا پر
ادھر عاشق وہی دنیا ہمیشہ چھوڑ دیتے ہیں