کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں
کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں
تجھ کو نہ ہو قبول جو میری دعا نہیں
ان پانیوں کسی کو ڈبوئے نہ شرم شوق
میں آب آب اس کی طرف دیکھتا نہیں
سو رخ سے چومتا ہے ترا پیرہن خیال
سب میں ہوں میری جان یہ موج ہوا نہیں
حیراں کھڑا ہوں وصل وجدائی کے درمیاں
میں کس شمار میں ہوں اگر آئینہ نہیں
گزرا مرے درون سے تو ہی برنگ عمر
اب جانے وہ درون بھی میرا تھا یا نہیں
چٹکی مہک اٹھی ہے یہ کیسی امید کی
اب تک تو دسترس میں وہ بند قبا نہیں
کام و دہن کو بخش چکا ہے جو پہلے نیب
اب شہد شعر دے بھی تو کوئی مزا نہیں