تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے

تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے
ورنہ تو دل نشیں تھے بہت کفر و دیں مجھے


مجھ کو وہ چہرہ خواب میں دیکھا ہوا لگا
دیکھا ہوا تھا اس نے بھی شاید وہیں مجھے


تقسیم کرنے والے نے ایسا کرم کیا
انگشتری کسی کو ملی اور نگیں مجھے


مجھ پر عطائے خاص ہے سانپوں کے باب میں
رکھتی ہے خود کفیل مری آستیں مجھے


دربار میں بلایا گیا ہوں نہ جانے کیوں
آتا نہیں کچھ بھی سوائے نہیں مجھے