وہی زمین وہی دور آسمانوں کے

وہی زمین وہی دور آسمانوں کے
دنوں کی بات نہیں کھیل ہیں زمانوں کے


دیا سلائی کی تیلی بھی اب ڈراتی ہے
نظارے یاد ہیں جلتے ہوئے مکانوں کے


ہمارے پاؤں کی زنجیر بنتے جاتے ہیں
سجے سجائے ہوئے سلسلے دکانوں کے


زمین بال برابر نہیں ہمارے نام
بناتے رہتے ہیں نقشے نئے مکانوں کے


اداس کر گیا وہ اسعدؔ جوانا مرگ
کہ اس عزیز میں کچھ طور تھے دوانوں کے