ہنر دیا بھی نہیں لے لیا انگوٹھا بھی

ہنر دیا بھی نہیں لے لیا انگوٹھا بھی
بڑے کمال کی فن کار ہے یہ دنیا بھی


ہزار عالم حیرت کروں نثار اس پر
نظر تو آئے کوئی چہرہ آئینہ سا بھی


میں اپنی راہ کی دیوار خود بناتا ہوں
مرا وجود مجھے اینٹ بھی ہے گارا بھی


بلا رہا ہوں سبھی کو کہ میرے ساتھ آئیں
نہ آیا کوئی تو میں چل پڑوں گا تنہا بھی


مرا ضمیر مجھے یہ یقیں دلاتا ہے
کہ تھا زوال میں تھوڑا قصور میرا بھی


کسی کا ساتھ کوئی عمر بھر نہیں دیتا
گراں بہا ہے رفاقت کا ایک لمحہ بھی