میں نے جو کچھ کھو دیا اب اس کو پا سکتا نہیں

میں نے جو کچھ کھو دیا اب اس کو پا سکتا نہیں
دل سے یہ احساس بھی لیکن مٹا سکتا نہیں


وہ کنار آب بیٹھے چاند اگتے دیکھنا
جھیل کی تہ سے وہ منظر اب اگا سکتا نہیں


سب در و دیوار اس کے لمس کے مقروض ہیں
اپنے گھر سے اس کی تصویریں مٹا سکتا نہیں


مت ملو اس سے تمہاری بات میں نے مان لی
اس کے غم میں چار آنسو بھی بہا سکتا نہیں


شہر بھر میں پھول کی چادر بچھانا ہے مجھے
اپنے شہزادوں کو کانٹوں پر چلا سکتا نہیں


کچھ بنانا چاہتا ہوں اور بن جاتا ہے کچھ
میں خود اپنے گھر کو نقشے سے ملا سکتا نہیں