ہزار مصلحت وقت ساتھ ساتھ رہی

ہزار مصلحت وقت ساتھ ساتھ رہی
جنوں کے سامنے بازی خرد کی مات رہی


جہاں بھی میں نے امارت کا احترام کیا
وہیں پہ روٹھ کے مجھ سے مری حیات رہی


تری نگاہ کرم پر یقین کیا آیا
فریب حسن میں یہ ساری کائنات رہی


وہ اک کلی نے چٹک کر چمن کو سمجھا دی
جو بات چیت ستاروں سے ساری رات رہی


خرد نے لاکھ دکھائیں وفا کی تصویریں
مری نگاہ مگر جانب فرات رہی


وہ دشت ہو کہ فلک بوس گنبد و محراب
غرض کہ ہو کے محبت کی واردات رہی


یہ اپنے اپنے سمجھنے کا فرق ہے راجےؔ
کہاں نگاہ کرم نظر التفات رہی