یقین و علم کی فضا نہ شہر میں نہ گاؤں میں
یقین و علم کی فضا نہ شہر میں نہ گاؤں میں
کسی کا کوئی مدعا نہ شہر میں نہ گاؤں میں
سمجھ سکے جو راستے میں گردشوں کی چال کو
کوئی بھی ایسا رہنما نہ شہر میں نہ گاؤں میں
سسک رہی ہیں عزتیں اچھل رہی ہیں پگڑیاں
شرافتوں سے واسطہ نہ شہر میں نہ گاؤں میں
وطن میں لوٹ ہو رہی ترقیوں کے نام پر
نمود صبح ارتقا نہ شہر میں نہ گاؤں میں
ہوں منعقد قدم قدم محبتوں کی محفلیں
ہوا ہے ایسا فیصلہ نہ شہر میں نہ گاؤں میں