چونک اٹھے عقل والے یہ کیا کہہ دیا
چونک اٹھے عقل والے یہ کیا کہہ دیا
حسن کو میں نے اپنا خدا کہہ دیا
نور دل سے ہے روشن جہان وفا
دل کو میں نے چراغ وفا کہہ دیا
پھول مسکائے کلیوں نے انگڑائی لی
اے نسیم سحر تو نے کیا کہہ دیا
میں نے دل میں کوئی بات رکھی نہیں
میں نے ہر بات کو برملا کہہ دیا
میری روداد غم کھا گئی ہے مجھے
سننے والوں نے تو واہ وا کہہ دیا
لوگ لے جائیں گے سوئے دار و رسن
ہم نے دل کا اگر مدعا کہہ دیا
اپنا شیوہ رہا راجےؔ کیا سادگی
ہم نے ان کی جفا کو وفا کہہ دیا