یہ فطرت کی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جاتی

یہ فطرت کی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جاتی
ہے کیا شے پتلۂ خاکی میں جو پائی نہیں جاتی


حضور حسن میں یہ عشق کی خودداریاں ناداں
تمنا عرض کی جاتی ہے فرمائی نہیں جاتی


مجھے اے دل اسی کوچے اسی محفل میں پھر لے چل
طبیعت میکدے میں مجھ سے بہلائی نہیں جاتی


مرا رونا مرے بس میں نہیں ہے ناصح مشفق
گھٹا یہ خود برس جاتی ہے برسائی نہیں جاتی


ذرا سا گفتگو میں موڑ ہو تو چونک اٹھتی ہوں
مری دیوانگی سے اتنی دانائی نہیں جاتی


نہ وہ دیوانگی ہے اب نہ وہ صحرا نہ وہ کانٹے
مگر تلووں سے شان آبلہ پائی نہیں جاتی


ان آنکھوں سے ضیائے مہر کی امید اے راجےؔ
جن آنکھوں میں محبت کی رمق پائی نہیں جاتی