معصوم شرقی کی غزل

    منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں

    منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں زندگی کا اداس رستہ ہوں تو خروش تلاطم دریا میں سکوت سراب صحرا ہوں کام آئی نہ کچھ شناسائی شہر کی بھیڑ میں اکیلا ہوں میں تری جستجو کے صحرا میں رقص کرتا ہوا بگولہ ہوں خار و خس ہی سہی مگر یارو میں بھی صحن‌ چمن کا حصہ ہوں چشم عبرت سے دیکھیے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے

    اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے چنگاریوں کے ڈھیر کو کوئی ہوا نہ دے مشکل سے کچھ ہوا ہے میسر مجھے سکوں ماضی کا کوئی درد مجھے پھر جگا نہ دے گھر پھونکنے سے پہلے مرا تو یہ سوچ لے شعلہ کہیں یہ تیرے بھی گھر کو جلا نہ دے طوفاں نفس نفس ہے قیامت قدم قدم جب زندگی یہی ہے تو اس کی دعا نہ دے اک ...

    مزید پڑھیے

    میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے

    میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے وہ بھی ایک دھوکہ تھا یہ بھی ایک دھوکہ ہے بیٹھے شیش محلوں میں تم سمجھ نہ پاؤ گے خار کیسے پاؤں میں درد بن کے چبھتا ہے دور ہو نگاہوں سے پاس ہو رگ جاں کے دل کا دل سے رشتہ ہے اس میں معجزہ کیا ہے اصل زندگی ہے کیا کیا کھلے کہ تم نے تو سانس کی ...

    مزید پڑھیے

    شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت

    شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت اندھیری رات میں جگنو چمک چکا ہے بہت رئیس شہر مرا اور امتحان نہ لے کہ میرے صبر کا ساغر چھلک چکا ہے بہت نہ کام آئے گی اب شمع دل کی تابانی تعلقات کا شعلہ بھڑک چکا ہے بہت چلے بھی آؤ کہ مل کر منائیں جشن بہار ہمارے شوق کا غنچہ چٹک چکا ہے بہت تمہارے رشتے ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا

    تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا وصل و فراق کیا ہے یہ میں جانتا نہ تھا آزاد ہو گیا میں جہاں کے خیال سے لیکن ترا خیال مجھے چھوڑتا نہ تھا میں اس کو دیکھتا تھا بڑے اشتیاق سے لیکن کبھی وہ میری طرف دیکھتا نہ تھا تم کیا خفا ہوئے کہ خفا ہو گیا جہاں جب تم خفا نہ تھے تو کوئی بھی خفا نہ ...

    مزید پڑھیے

    دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے

    دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے میں بھی تو راہرو ہوں ترا رہ گزار شوق تھوڑی سی دھول میری طرف بھی اچھال دے معصومؔ ...

    مزید پڑھیے

    میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

    میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں پھرتی ہے تیری یاد لئے در بدر مجھے منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف میں ہم سفر کو بھول گیا ہم سفر مجھے بیتے دنوں کے زخموں کا کرتا میں احتساب مہلت جو دیتی گردش شام و سحر مجھے ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    دل ہے کہ جستجو کے سرابوں میں قید ہے

    دل ہے کہ جستجو کے سرابوں میں قید ہے ورنہ ہر ایک چہرہ نقابوں میں قید ہے فرصت کہاں کہ ڈھونڈے غم دہر کا علاج ہر شخص اپنے غم کے حسابوں میں قید ہے کیا خاک ہوں نصیب یہاں سر بلندیاں جوش عمل تو آج کتابوں میں قید ہے تسخیر کائنات کی مہلت کسے یہاں ہر ذہن اپنے جملہ حسابوں میں قید ہے سونے ...

    مزید پڑھیے

    غم کے طوفاں دل مضطر میں ٹھہر جاتے ہیں

    غم کے طوفاں دل مضطر میں ٹھہر جاتے ہیں عیش کے لمحے تو پل بھر میں گزر جاتے ہیں حیف صد حیف کہ نا قدرئ فن کے ہاتھوں کتنے فن کار لہو تھوک کے مر جاتے ہیں وہ پہنچ سکتے نہیں بام ترقی پہ کبھی وقت کے زینے سے جو لوگ اتر جاتے ہیں اہل دانش پہ اٹھاتا نہیں انگلی کوئی جتنے الزام ہیں دیوانوں کے ...

    مزید پڑھیے

    میرے شکوے کا ذرا اس پہ اثر ہو تو سہی

    میرے شکوے کا ذرا اس پہ اثر ہو تو سہی مہرباں مجھ پہ کبھی اس کی نظر ہو تو سہی دیکھنے والے مرا عزم سفر دیکھیں گے منزل شوق کوئی پیش نظر ہو تو سہی جلوے قدرت کے تو بکھرے ہوئے کونین میں ہیں دیکھنے والا کوئی اہل نظر ہو تو سہی میں مسرت بھرے لمحوں کا کروں استقبال مرے حصے میں حسیں شام و ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2