غم کے طوفاں دل مضطر میں ٹھہر جاتے ہیں
غم کے طوفاں دل مضطر میں ٹھہر جاتے ہیں
عیش کے لمحے تو پل بھر میں گزر جاتے ہیں
حیف صد حیف کہ نا قدرئ فن کے ہاتھوں
کتنے فن کار لہو تھوک کے مر جاتے ہیں
وہ پہنچ سکتے نہیں بام ترقی پہ کبھی
وقت کے زینے سے جو لوگ اتر جاتے ہیں
اہل دانش پہ اٹھاتا نہیں انگلی کوئی
جتنے الزام ہیں دیوانوں کے سر جاتے ہیں
عزم و ہمت کو بنا لیتے ہیں جو راہنما
سخت راہوں سے بھی ہنس ہنس کے گزر جاتے ہیں
اپنے احساس کے جلتے ہوئے ویرانے میں
خشک پتوں کی طرح لوگ بکھر جاتے ہیں
جب شب غم میں مجھے تیرا خیال آتا ہے
میری تنہائی کے لمحات سنور جاتے ہیں
تحفۂ مہر و وفا کون یہاں دیتا ہے
دل کا کشکول لئے آپ کدھر جاتے ہیں
کس طرح وقت کی ٹھوکر وہ کریں گے برداشت
دل دھڑکنے کی صدا سن کے جو ڈر جاتے ہیں
ان کے سائے سے بھی تم دور رہو اے معصومؔ
اپنے وعدے سے جو احباب مکر جاتے ہیں