میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے
دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے


کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں
پھرتی ہے تیری یاد لئے در بدر مجھے


منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف
میں ہم سفر کو بھول گیا ہم سفر مجھے


بیتے دنوں کے زخموں کا کرتا میں احتساب
مہلت جو دیتی گردش شام و سحر مجھے


ہوتی ہے ایک رات چراغوں کی زندگی
یہ درس دے رہا ہے چراغ سحر مجھے


چاہے کوئی تو پیار سے کر لے مجھے اسیر
نفرت سے زیر کر نہ سکے گا مگر مجھے


معصومؔ میرے حق میں وہ انمول ہیں رتن
قدرت نے جو عطا کئے لعل و گہر مجھے