معصوم شرقی کی غزل

    جو زخم لگے ہیں مرے دل پر نہیں دیکھا

    جو زخم لگے ہیں مرے دل پر نہیں دیکھا تم نے مرا حال دل مضطر نہیں دیکھا آنکھوں میں تو بربادیٔ گلشن کا تھا منظر پھولوں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تقدیر میں تھے ہی نہیں آرام کے لمحے غربت میں کٹی عمر کبھی گھر نہیں دیکھا شاید کوئی دیوانہ نہیں آج سر راہ ہاتھوں میں کسی طفل کے پتھر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2